خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 835
خطبات طاہر جلد ۱۱ 835 خطبه جمعه ۲۰ رنومبر ۱۹۹۲ء رفتہ رفتہ ان قدروں سے دور ہٹتی چلی گئی۔دلوں سے نیکی کی سب جڑیں اکھیڑی گئیں اور ایک بھی سیاستدان ایسا نہیں ہوا جس نے مہم چلا کر قوم کو دوبارہ با اخلاق بنانے کی کوشش کی ہو۔بداخلاقی کی قیمت جب پڑنے لگ جائے تو پھر اس سوسائٹی میں اخلاق والارہ کیسے سکتا ہے۔قیمتیں ہی بد اخلاقی کی پڑتی تھیں، قیمتیں ہی بد دیانتی کی پڑا کرتی تھیں۔اس کے بعد یہ سوچنا کہ اقتصادیات صاف رہ جائیں گی یا قومی معاملات صاف رہ جائیں گے یا سیاست پاک صاف ہو گی یہ بالکل باطل، جھوٹے تصور ہیں۔یہ عقل کے خلاف بات ہے ایسا ممکن ہی نہیں رہتا۔آپ آج جو حال دیکھ رہے ہیں یہ کم از کم سوسال کی یا شاید اس سے بھی پہلے کی پالی ہوئی بیماری ہے جواب جسم کے ہر حصے سے ظاہر ہونے لگی ہے شعراء جب اپنی بے چینی کا اظہار کرتے ہیں تو بعض دفعہ کہتے ہیں کہ تم دو آنکھوں کو کہتے ہو میرا تو رواں روواں آنکھیں بن گیا ہے۔میرے ایک ایک روئیں کی آنکھ میں تم میرے دل کا غم پڑھ سکتے ہو۔کیسا دردناک منظر ہے کہ آج پاکستان کا رواں روواں آنکھ بن چکا ہے اور ہر آنکھ بدیانت اور خائن ہے۔ہر آنکھ میں آپ اس خیانت کی کہانی پڑھ سکتے ہیں اور حضرت اقدس محمد مصطفی امیہ نے جو نصیحتیں ہمیں فرمائیں، قرآن نے جو عنوان باندھے اور بتایا کہ اگر تم ترقی کرنا چاہتے ہو، اپنی اعلیٰ قدروں کی حفاظت کرنا چاہتے ہو تو خیانت سے بچ کر رہنا خیانت کی ایک ایک قسم گنوا کر دکھائی لیکن قوم ان سب سے غافل اسی حال پر چلی جارہی ہے۔اب ہمیں اس سے کوئی دلچسپی نہیں رہی کہ آج یہ ہیں تو کل کون آئے گا۔جس طرح کسی شاعر نے کہا تھا:۔ہمارے لئے سارے ولی ابن ولی آئے جب تک رسول اللہ ﷺ کا کوئی غلام او پرنہیں آتا جوتقویٰ اور امانت کے ساتھ اپنی امارت کے حق ادا کرنے نہیں جانتا اس وقت تک نہ ہمیں دلچسپی ہے نہ قوم کوکوئی دلچسپی ہوگی۔آج کچھ لوگ آئیں گے اور تماشا دکھا کر چلے جائیں گے۔کل گلیوں میں اور تما شا ہوگا۔جو کل کتا کہا کرتے تھے وہ کل کہتے کہلائیں گے۔یہ بد نصیب تاریخ ہے جو بیسوں سال سے اسی طرح جاری و ساری ہے اور قوم کا ضمیر جاگ نہیں رہا اس لئے کہ صاحب ضمیر لوگوں کی آواز میں بند ہیں اور جو ان کے ضمیر جگانے کے لئے مقرر کئے گئے تھے اُن کو سب سے زیادہ جھوٹا کر کے دکھایا گیا ہے۔پس خیانت نے تو پوری طرح چھاؤنی بنا رکھی ہے ہر جگہ، ہر روئے بدن میں خیانت داخل ہو چکی ہے۔