خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 806 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 806

خطبات طاہر جلد ۱۱ 806 خطبه جمعه ۱۳/ نومبر ۱۹۹۲ء کرنے والے ہیں وہاں کسی جھوٹے کی شفاعت منظور نہیں ہوگی کسی جھوٹے کی خاطر شفاعت منظور نہیں ہوگی کسی کی دوستی کام نہیں آئے گی لیکن دنیا میں جب تم خیانتیں کرتے ہو تو ایک سہارا تمہارا یہ جھوٹے معبود ہیں جو تم نے اپنے دلوں میں نصب کر رکھے ہیں۔خیانت خودجھوٹ ،خیانت خود ایک جھوٹا خدا ہے لیکن جب خیانت مصیبت ڈالتی ہے تو پھر مزید جھوٹے خداؤں کی طرف انسان رخ کرتا ہے ، ان کی طرف دوڑتا ہے۔تو فرمایا کہ ان کے ہاتھ میں اس دن کوئی فیصلہ نہیں ہوگا اور دنیا میں ان کے فیصلے تمہارے کسی کام آنہیں سکتے کیونکہ تم خدا کی پکڑ کے نیچے ہو۔پس اس پہلو سے خیانت کا مضمون بہت اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔اس کی بہت سی شاخیں ہیں۔حضرت اقدس محمد مصطفی امیہ نے غدر کے لفظ کے تابع خیانت کو بیان فرمایا ہے کیونکہ لغت والے بتاتے ہیں کہ غدر اور خیانت، دھوکہ اور خیانت ملتے جلتے مضامین ہیں۔صلى الله چنانچہ عہد شکنی کو قرآن کریم نے خیانت قرار دیا اور حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ نے لفظ غدر کے تابع عہد شکنی کا ذکر فرمایا۔فرمایا عن ابی هریره رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال قال الله تعالى ثلاثة انا خصمهم يوم القيامة رجل اعطى بي ثم غدر ورجل باع حرا فاکل ثمنه و رجل استاجر اجیرا فاستوفى منه ولم يعطه اجره ( بخاری کتاب الاجاره حدیث نمبر : ۲۱۰۹) بخاری کی یہ حدیث ہے حضرت ابو ہریرہ سے مروی ہے کہ صلى الله حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تین شخص ایسے ہیں جن سے قیامت کے دن میں جھگڑا کروں گا۔ایک وہ شخص جس نے میرے ساتھ عہد کر کے دھو کہ کیا کہ یہ میرے عہد بیعت میں داخل ہوا اور پھر اس کی کوئی پرواہ نہ کی یہ بھی ایک خیانت کی قسم بلکہ سب سے زیادہ سنگین قسم ہے۔دوسرے وہ شخص جس نے آزاد شخص کو غلام بنایا اور بیچ دیا اور اس کی قیمت کھا گیا یہ بھی براہ راست خدا تعالیٰ کی خیانت ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جو آزادی بخشی ہے انسان کو اس کا آزادی کا حق چھینے کا کسی دوسرے کو حق نہیں۔پس غلامی کے مضمون پر یہ حدیث حرف آخر ہے۔اس میں غلامی کے متعلق تمام ضروری ہدایات عطا فرما دی گئیں جنہیں آج بدقسمتی سے عالم اسلام نظر انداز کر رہا ہے وہ مقدس سرزمین جہاں یہ ہدایت جاری فرمائی گئی۔یعنی مکہ اور مدینہ یعنی ارض حجاز جہاں یہ دونوں آباد مقدس بستیاں واقع ہیں وہاں آج تک بھی لونڈیوں کا رواج ہے اور غلام پالے جارہے ہیں اور مشرق وسطی میں غلاموں کی