خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 805 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 805

خطبات طاہر جلد ۱۱ 805 خطبه جمعه ۱۳/ نومبر ۱۹۹۲ء پڑتی ہے۔پس انسان جب کسی کی اچھی چیز کو دیکھتا ہے خواہ انسانی چیز ہو، رشتے میں اس کے تعلق والی ہو یا کسی کی ملکیت کو دیکھتا ہے تو آنکھ کی حرص در اصل دل کو یہ پیغام دیتی ہے کہ اس کو اپنانے کا فیصلہ کرلو اور جب یہ فیصلہ ہو جاتا ہے تو پھر ساری سکیمیں اندر اندر تیار ہوتی ہیں اور دل آماجگاہ بن جاتا ہے اس خیانت کی جس کا آغاز آنکھ سے ہوا تھا۔تو خَابِنَةَ الْأَعْيُنِ فرمایا کہ آنکھوں کی خیانت، اس کی حفاظت کرو۔یہ ایسا ہی مضمون ہے جیسے دوسری جگہ فرمایا کہ سرحدوں پر گھوڑے باندھ لو۔اس بات کا انتظار نہ کرو کہ دشمن تمہارے گھر تک پہنچ جائے پھر دفاع کی کارروائی شروع کرو۔تو آنکھ وہ سرحد ہے جہاں خیانت کا دفاع ہونا چاہئے۔اگر آنکھ سے خیانت کا دفاع ہو جائے تو دل کا حال صاف ہی رہتا ہے دل پاکیزہ رہتا ہے اور اس کو پھر کسی قسم کا خطرہ در پیش نہیں ہوتا۔تو کتنی لطافت کے ساتھ خدا تعالیٰ نے اس مضمون کو بیان فرمایا کہ آنکھوں کی حفاظت کرو۔آنکھوں سے خیانت شروع ہوتی ہے وہ دل میں اترتی ہے، وہاں پناہ لے لیتی ہے اور انسان سمجھتا ہے کہ میرے دل کا حال تو کسی پر روشن نہیں ہے۔کیسے کوئی سمجھے گا کہ میں نے کیا سوچا اور کیا نیت باندھی؟۔ہے فرمایا اللہ جانتا ہے، وہ خیانت کے آغاز سے لے کر اس کے انجام تک تمام مراحل سے واقف۔اور پوری طرح ان تمام منازل سے واقف ہے جن سے نیتیں گزرکر بدی کا روپ ڈھالتی ہیں اور پھر دنیا میں مصیبتیں اور دکھ پھیلا دیتی ہیں۔چنانچہ يَعْلَمُ خَابِنَةَ الْأَعْيُنِ وَمَا تُخْفِي الصدور میں یہ تمام بدنیتی کا سفر یہ ایک گندی سکیم پر منتج ہوا ایک بدارادے پر منتج ہوا جس کے ذریعے چوریاں ہوئیں ، ڈاکے ہوئے قبل ہوئے لوگوں کی عزتوں پر حملے ہوئے۔یہ سارا مضمون قرآن کریم کی اس چھوٹی سی آیت میں درجہ بہ درجہ تمام تفصیل سے بیان فرما دیا ہے وَاللهُ يَقْضِي بِالْحَقِّ کہ جس کی نظر ہر چیز پر ہو، باریک سے باریک چیز پر ہواس کا فیصلہ تو لازماً حق کے ساتھ ہوگا۔وَالَّذِيْنَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ لَا يَقْضُونَ بِشَیءٍ وہ لوگ جن کو یہ خدا کے سوا معبود بناتے ہیں ان کے ہاتھوں میں تو کوئی فیصلے نہیں چنانچہ شرک کا مضمون بھی اس کے ساتھ باندھ دیا۔دراصل خائن لوگ اپنی خیانت اول تو چھپاتے ہیں جب پکڑی جاتی ہے تو پھر دنیا وی خداؤں کی طرف رخ کرتے ہیں اور ان سے سہارے ڈھونڈتے ہیں اور ان کے فیصلے اپنے حق میں کروانے کے لئے پھر خیانت سے کام لیتے ہیں تو اسی لئے خدا تعالیٰ نے شروع میں فرما دیا کہ وہ دن جس کا ہم ذکر