خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 798 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 798

خطبات طاہر جلد 798 خطبه جمعه ۶ رنومبر ۱۹۹۲ء اور اپنی قوم کو اس قعر مذلت میں نہ دھکیل دیں جس میں جاتے ہوئے تو دیکھا جاتا ہے وہاں سے نکلتے ہوئے کبھی کسی کو نہیں دیکھا گیا۔جہاں تک سیاست کا معاملہ ہے، سیاست کو تو یہ حق ہی نہیں ہے کہ وہ مذہبی امور کے متعلق فیصلے کرے اور یہ کہے کہ فلاں کے ادعاء کے خلاف اس کا مذہب یہ ہے۔یہ تو حد سے زیادہ جاہلانہ بات ہے کہ کسی مذہب کی طرف منسوب ہونے کا حق اس ملک کی سیاست چھین لے اور یہ دھمکیاں دی جائیں کہ اگر یہ حق نہیں چھینا جائے گا تو یہاں خون کی ندیاں بہہ جائیں گی۔بنگلہ دیش میں اگر خون کی ندیاں بہائی جائیں اور حکومت اس میں ذمہ دار ہو گی تو جو بھی خون بہے گا وہ ایک بنگالی کا خون ہو گا اور بنگال کے راہنماؤں کے اوپر اس خون کا ایک ایک قطرہ قرض ہو گا۔جوخون ملک میں ملک کے باشندوں کا بہتا ہے ملک کے باشندوں کا حق ہوتا ہے۔مذہب اور ملت اور رنگ کی تفریق کے بغیر ہر شہری کا حق ہے کہ اس کی حکومت اس سے انصاف اور عدل کا معاملہ کرے۔اس کے خون کا ایک ایک قطرہ تمہاری گردن پر ہوگا۔پس بنگال میں اگر خون بہے گا تو بنگالی کا بہہ رہا ہوگانہ مسلمان کا نہ ہند و کا۔مظلوم کا خون تو نہ مذہب رکھتا ہے نہ رنگ رکھتا ہے وہ مظلوم ہی کا خون ہوتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ ان کو عقل دے جہاں تک سیاست کا تعلق ہے سیاست کو زیب ہی نہیں دیتا کہ وہ ایسے مذہبی امور میں دخل دے جس کے لئے سیاست بنائی نہیں گئی۔سیاست کی دنیا ایک الگ دنیا ہے اور پھر ایسے امور میں دخل دے جہاں دخل دینے کی خدا نے کسی کو بھی اجازت نہ دی ہو۔یہ ملاں دعوے کرتے ہیں کہ فلاں وجہ سے یہ غیر مسلم ہیں فلاں وجہ سے غیر مسلم ہیں۔اپنی ان کی عمریں کٹ گئیں چودہ سو سال گواہ ایک دوسرے کو غیر مسلم اور کافر قرار دیتے ہوئے اور اتنے اتنے بھیانک الزام لگائے ہیں ایک دوسرے پر اور اتنی شدت کے ساتھ کفر کے فتوے لگائے ہیں اور اس اقرار کے ساتھ اعلان کیا ہے کہ فلاں فرقہ اور اس کے تمام افراد نہ صرف غیر مسلم بلکہ جہنمی ہیں۔پھر یہاں تک بھی لکھا ہے کہ جو شخص اس فتوے میں شک کرے گا وہ بھی غیر مسلم اور جہنمی ہے۔یہ سارے فتوے کھلے کھلے چھپے ہوئے موجود ہیں۔بنگلہ دیش کی جماعت کو میں نے نصیحت کی ہے کہ فوراً ان کو شائع کریں اور سارے اہلِ بنگالہ کو بتائیں کہ یہ کون ملاں ہے جو آج تم سے مخاطب ہو رہا ہے کل یہ کیا کیا کرتا تھا ؟ جب احمدیت ابھی وجود میں ہی نہیں آئی تھی اس وقت یہ مولوی ایک دوسرے کے خلاف کیا فتوے دیا کرتے تھے۔ان کی باتوں پر چل کر تم کیوں اپنی سیاست کو تباہ کرتے ہو۔یہ دراصل ایک سازش ہے