خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 799 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 799

خطبات طاہر جلدا 799 خطبہ جمعہ ۶ رنومبر ۱۹۹۲ء جیسا کہ پاکستان کے خلاف کی گئی تھی۔احمدیوں کا تو خدا محافظ ہے اور مظلوم ہونے کے لحاظ سے بھی اللہ کی حفاظت میں ہیں لیکن سیاستوں کا تو خدا محافظ نہیں ہے۔پس سیاست دان غلطیاں کرتے ہیں تو اس کے تلخ نتائج ان کی زندگیوں کا حصہ بن جاتے ہیں، یہ گھونٹ ان کو بھرنے ہی پڑتے ہیں۔پس آج پاکستان کی سیاست اُکھڑی ہوئی ہے اور دن بدن بے بس اور نہتی ہوتی چلی جارہی ہے۔اس کا ایک ہی علاج ہے کہ تو بہ کرو اور غلط فیصلوں کو کالعدم قرار دو۔جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے سیاست کو تو کیا کسی مذہبی راہنما کو بھی خدا تعالیٰ نے یہ حق نہیں دیا کہ کسی کو غیر مسلم قرار دے دے۔سب سے بڑا حق اگر کسی کو نصیب ہو سکتا تھا تو حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کونصیب ہو سکتا تھا۔تمام تاریخ میں آنحضرت ﷺ کی زندگی کی تاریخ میں ایک بھی ایسا واقعہ نہیں ہے۔میں تمام دنیا کے مولویوں کو چیلنج دے کے کہتا ہوں ایڑی چوٹی کا زور لگاؤ ایک بھی تمہیں ایسا واقعہ نہیں ملے گا کہ کسی نے کہا ہو کہ میں مسلمان اور محمد رسول اللہ اللہ نے کہا ہو نہیں تم مسلمان نہیں ہو۔درخشندہ تاریخ میں جس وقت اسلام بن رہا تھا، منصہ شہود پر ابھر رہا تھا خدا کا جمال اور خدا کا جلال ایک زندہ محمد کی شکل میں دنیا میں رونما تھا اس وقت ایک واقعہ بھی ایسا نہیں ہوا وہ شخص جو خدا سے علم پاتا تھا اور خدا کے علم سے کلام کرتا تھا جس کی دلوں پر نظر تھی اس نے بھی کبھی ایک دفعہ بھی ایسا نہیں کیا کہ کسی مسلمان ہونے کے دعوے دار کو غیر مسلم قرار دے دیا ہو۔کیوں نہیں کیا؟ ایک تو فراست طبعی فراست ایسی روشن تھی کہ وہ دنیا کے روشن ترین عالم کے چاند ستاروں کو بھی شرماتی تھی اس میں کوئی شبہ نہیں ہے۔سورج کی روشنی کی آنحضرت نے کی فراست کے سامنے کوئی حیثیت نہیں کیونکہ انسانی فراست کی روشنی مادی روشنیوں کے او پر غالب ہوتی ہے اور جونہی یہ فراست ترقی کرتی ہے اس روشنی کو دوسری روشنیوں پر غلبہ عطا ہوتا ہے۔یہ مبالغہ آمیزی کی باتیں نہیں ہیں یہ حقیقت ہے کہ محمد رسول اللہ کی فراست سے بڑھ کر روشن فراست نہ کبھی پہلے ہوئی نہ کبھی آئندہ ہوگی اور تمام روشن وجودوں میں سب سے زیادہ روشن وجود آپ کا ہے۔اس لئے روشنی کے ساتھ اندھیروں کا کوئی جوڑ نہیں ہوا کرتا۔ایک فیصلہ بھی آپ غلط نہیں کر سکتے تھے نہ کبھی کیا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خود اس بارے میں واضح ہدایت فرمائی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قَالَتِ الْأَعْرَابُ آمَنَّا اعراب یعنی بدوی لوگ کہتے تھے ہم ایمان لے آئے ہیں قُل لَّمْ تُؤْمِنُوْا اے محمد ! ان کو بتا دے۔یعنی خدا خبر دے رہا ہے کہ تم ایمان نہیں لائے وَلكِنْ قُولُوا ا