خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 797 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 797

خطبات طاہر جلدا 797 خطبہ جمعہ ۶ رنومبر ۱۹۹۲ء والسلام اللہ کی قسمیں کھا کر اعلان کرتے ہیں کہ اس آیت پر بدرجہ کمال ہمیں ایمان حاصل ہے بلکہ اس کی معرفت کو جیسا ہم سمجھتے ہیں ہمارے مخالف اس کا ادنی سا بھی نہیں سمجھتے لیکن اس آیت کے مضمون کی قرآن کریم کی کوئی دوسری آیت مخالف اور معاند ہوہی نہیں سکتی۔اس آیت کو اس آیت کی روشنی میں پڑھیں جس میں یہ اعلان ہے کہ ہر نبوت بند مگر غلامی کی نبوت، اطاعت محمدیہ کی نبوت وہ جاری وساری رہے گی اور صرف محمد مصطفیٰ کے غلاموں کو عطا ہو گی مَن يطع اللهَ وَالرَّسُولَ اعلان عام ہے کہ جو شخص اللہ اور اس رسول یعنی محمد مصطفیٰ کی اطاعت کرے گا فَأُولَيْكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِم اب بس یہی لوگ ہیں جو انعام پانے والے ہوں گے ان کے سوا کوئی نہیں ہو گا۔تم نبوت کہتے ہو قرآن کہتا ہے کہ ہر انعام محمد رسول اللہ کی غلامی سے وابستہ کر دیا گیا ہے منَ النَّبِيِّنَ کون ہیں یہ انعام پانے والے ؟ مِنَ النَّبِین نبیوں میں سے ہوں گے وَالصَّدِّيقِينَ صدیقوں میں سے ہوں گے وَالشُّهَدَاء شہداء میں سے ہوں گے وَالصَّلِحِین اور صالحین میں سے ہونگے وَحَسُنَ أُولَبِكَ رَفِيقًا کیے اچھے ساتھی مل گئے تمہیں۔نبیوں میں سے ہو گئے، نبیوں کا ساتھ عطا ہو گیا۔صدیقوں ،شہیدوں اور صالحین میں سے ہو گئے لیکن ایک شرط ہے ، اطاعت محمد ی اور کامل اطاعت۔جتنا اطاعت میں درجہ کمال کو پہنچو گے اتنا ہی بڑا درجہ نصیب ہو جائے گا۔بس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تو یہ دعوی کیا ہے کہ جو کچھ میں نے پایا ہے محمد مصطفی کی غلامی اور اطاعت سے پایا ہے اور اسے تم وہ حقیقی نبوت قرار نہیں دے سکتے جس کی راہیں بند ہیں۔یعنی وہ نبی جو ہمیشہ کے لئے اولوالامر ہوگا، قیامت تک اس کے لفظ کو کوئی بدل نہیں سکتا۔وہی حاکم ہے، حکمران ہے، نہ صرف اپنے زمانے کا بلکہ ہمیشہ آئندہ آنے والے زمانوں کا۔اس پر تم نے یہ فساد برپا کر رکھا ہے، اس پر شور ڈالا ہوا ہے۔تم کل خدا کو کیا جواب دو گے لیکن خدا کل پر ادھار نہیں رکھا کرتا۔ایسے بدبختوں کو جو کلام الہی کو تروڑ مروڑ کے اپنے وحشیانہ مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں، دنیا میں بھی سزائیں دی جاتی ہیں اور وہ تاریخ جس کا میں نے مختصر ذکر کیا ہے حال کی تاریخ وہ اس بات پر گواہ کھڑی ہے کہ بعد کے زمانے کی باتیں تو مرنے کے بعد دیکھی جائیں گی۔اس دنیا میں بھی خدا انہیں بخشے گا اور سزا پر سزا دیئے چلے جائے گا۔بنگلہ دیش کے راہنماؤں کو میں نصیحت کرتا ہوں کہ عقل سے کام لیں ، ہوش کے ناخن لیں