خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 795
خطبات طاہر جلدا 795 خطبه جمعه ۶ رنومبر ۱۹۹۲ء میں جہاد ہوسکتا ہے۔ان ممالک کی حکومتیں اعلان کریں تو میں ان کو یقین دلاتا ہوں کہ اللہ کے فضل سے احمدی پیش پیش ہوں گے لیکن آپ کے لئے مشکل یہ ہے کہ آپ احمد یوں کو مسلمان نہیں سمجھتے اور جہاد کے لئے استعمال کرنا شاید پسند نہ فرمائیں۔تو میرا مشورہ یہ ہے کہ مولویوں کو کیوں نہیں پکڑتے سارے مولویوں کو پکڑ کے پاکستان کے ہوں، بنگلہ دیش کے ہوں ان کی فوجیں بنائیں اور بوسنیا میں بھجوا کے ان کو جام شہادت نوش کرنے دیں۔اتنا بیچارے مسلمان عوام کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں جامِ شہادت نوش کرو۔خود کیوں نہیں نوش فرماتے ، اپنی دفعہ وہ جام تلخ ہو جاتا ہے۔یہ دھو کے باز ہیں۔بنگلہ دیش میں بھی ان کا یہی حال ہے۔بار بار وہاں سے اطلاعیں آتی ہیں کہ بعض علاقوں پر مظالم ہوئے ہیں مسلمانوں کے خلاف۔برما کے بڑے بھاری تعداد میں مہاجر آئے ہیں تو برما کا فرنٹ کیوں نہیں کھول دیتے ان کے لئے۔ضرور بیچارے مظلوم احمد یوں پر حملے کروانے ہیں جو اپنا دفاع بھی نہیں کر سکتے ، جن کو تعداد کے لحاظ سے اور طاقت کے لحاظ سے یہ توفیق ہی نہیں ہے اور ان کے لئے سر دست جو دور ہے وہ مظلومیت کا دور ہے۔وہ اپنی مظلومیت سے بھی نہیں ڈرتے ، وہ اپنا نہتا ہونے سے بھی نہیں ڈرتے ، ان کو اس کمزوری کے باوجود خوف نہیں ہے کہ آپ آئیں اور ان کے بڑوں اور چھوٹوں اور بچوں کو قتل کریں ، ان کے گھروں کو آگ لگا ئیں۔پہلے بھی آپ ان سے یہ کرتے رہے ہیں اور دیکھ چکے ہیں کہ اس کے باوجود وہ خوف کھانے والے نہیں ہیں۔تو تم جو سمجھتے ہو کہ واقعہ تم جام شہادت نوش کرنے کی خواہش رکھتے ہو بہترین علاج تمہارے لئے یہ ہے کہ برما کی فوج کھولو، اور بنگلہ دیش کی حکومت کو چاہئے کہ اچھی بھلی فوج ملی ہوئی ہے لاکھوں کی تعداد میں ملاں اور ان کے چیلے چانٹے ہیں ان کو بھجوا میں ایک دفعہ جھگڑ اختم ہو ، سیاست گندگی سے پاک ہو اور امن کی زندگی بسر کریں۔تو جاہلانہ حرکتیں نہ کریں حقیقت کو دیکھیں حال کیا ہے؟ آنحضرت ﷺ کی نبوت پر نہ کوئی ڈاکہ ڈال سکتا ہے نہ قیامت تک کوئی ایسا پیدا ہو گا جو ڈاکہ ڈال سکے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تو غلامی کا دعویٰ کیا ہے اور عاشقانہ غلامی کا دعوی کیا ہے۔آپ نے تو یہ کہا ہے وہ ہے میں چیز کیا ہوں بس فیصلہ یہی ہے“ سب ہم نے اس سے پایا شاہد ہے تو خدایا