خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 75 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 75

خطبات طاہر جلد ۱۱ 75 55 خطبہ جمعہ ۳۱ /جنوری ۱۹۹۲ء ایک تاریخی رشتہ بھی اور ایک حال کے زمانے پر پھیلا ہوا رشتہ ہے اور ایک مستقبل کے زمانے میں رونما ہونے والے واقعات کا رشتہ ہے۔اور یہ ایسے گہرے تقدیری رشتے ہیں جن کے نتیجہ میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ جس طرح امام مہدی جمعہ بھی تھے اور امام مہدی بھی تو۔جماعت احمدیہ، جماعت احمدیہ بھی ہے اور جمعہ بھی ہے۔پس جمعہ کے ساتھ ہماری ساری بقاء وابستہ ہے۔ہمارے تمام کاموں کا نیک انجام تک پہنچنا وابستہ ہے اور اس دن کے جو حقوق ہیں وہ ہمیں لازماً ادا کرنے ہوں گے اگر ہم نے اس دن کے حقوق ادا نہ کئے تو احمدیت تو ان برکتوں سے محروم نہیں ہوسکتی کیونکہ خدا تعالیٰ کا کلام ہے جو لازما پورا ہوگا۔محمد مصطفی ﷺ کی خوشخبریاں ہیں جن کو دنیا کی کوئی طاقت ٹال نہیں سکتی۔مگر بعض نسلیں ان برکتوں سے ضرور محروم رہ سکتی ہیں۔وہ نسلیں جن کو خدا تعالے نے کھول کر برکتوں کی راہیں دکھا دی ہوں وہ ان پر آگے قدم بڑھا کر ان برکتوں کے حصول کی کوشش نہ کریں ان کی محرومی ضرور ہو سکتی ہے۔پس خدا نہ کرے کہ ہماری نسل محروموں کی نسل شمار ہو کیونکہ ہماری نسل کو ہی خدا نے یہ معجزے دکھائے ہیں اور اوپر تلے مسلسل ظاہر ہونے والے نشانات کی صورت میں یہ معجزے دکھائے ہیں۔جب سے احمدیت اپنی دوسری صدی میں داخل ہوئی ہے نئے نئے اعجازی نشان احمدیت کے حق میں ظاہر ہورہے ہیں اور یہ نشان ان نشانوں میں سے ایک بہت ہی عظیم الشان بلکہ یہ کہنا بھی غلط نہ ہو گا کہ سب سے بڑا عظیم نشان ہے کیونکہ اس نشان نے کھول کر اسلام کے غلبہ کو احمدیت کے غلبہ کے ساتھ نہ ٹوٹنے والے رشتوں میں جوڑ دیا ہے۔جمعہ کے تعلق میں میں اس سے پہلے جماعت کو نصیحت کر چکا ہوں کہ جمعہ کے حقوق ادا کریں، خود بھی جمعہ میں حاضر ہوں اور اپنے بچوں کو بھی لایا کریں۔جن لوگوں کو تو فیق نہیں ملتی کہ وہ ہر جمعہ میں حاضر ہو سکیں ان کو چاہئے کہ وہ کم سے کم تین میں سے ایک جمعہ تو ضرور پڑھ لیا کریں اور جن کے بچوں کو تعلیمی اداروں کی پابندیوں کے نتیجہ میں ہر جمعہ میں شامل ہونے کی توفیق نہیں مل سکتی کوشش کریں کہ ان کے اساتذہ ان کے لئے استثنائی فیصلہ کرتے ہوئے ان کو اجازت دیں اگر نہ دیں تو کم از کم تین جمعوں میں سے ایک جمعہ ان کو سکول جانے سے روک دیں اور وہ جمعہ میں حاضر ہوا کریں یہ جو میں نے کہا تھا اس کا تعلق آنحضرت ﷺ کے بعض واضح فرمودات سے ہے اور انہی سے متعلق میں کچھ مزید روشنی ڈالنا چاہتا ہوں۔