خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 76 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 76

خطبات طاہر جلد ۱۱ नै 76 خطبہ جمعہ ۳۱ /جنوری ۱۹۹۲ء جامع ترمذی، ابواب الجمعة باب ماجاء فی ترک الجمعه من غیر عذر میں یہ روایت درج ہے کہ حضرت ابو جعد ضمری ( ان کے صحابی ہونے کے متعلق محمد ابن عمر کی روایت ہے اور انہی کے حوالے سے ان کو صحابی کہا جاتا ہے۔اسی لئے بریکٹ میں یہ درج ہوتا ہے کہ ان کو بھی فلاں وجہ سے صحابی شمار کیا گیا ورنہ معروف صحابہ میں ، معلوم صحابہ میں ان کا نام نمایاں نہیں ہے مگر بہر حال تمام محدثین جنہوں نے ان کی روایات درج کی ہیں بطور صحابی ہی ان کی روایات درج کرتے ہیں ) فرماتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ جوشخص مسلسل تین جمعہ اپنی سستی اور غفلت کی وجہ سے یا جمعہ کو حقیر سمجھتے ہوئے ترک کرتا ہے اللہ اس کے دل پر مہر لگا دے گا ایک دوسری روایت میں درج ہے کہ جو تین جمعہ عمد ا چھوڑ دے وہ منافق ہے۔یہ حدیث جو میں نے پیش کی ہے سنن ابو داؤد میں بھی ہے سنن النسائی میں بھی ہے ، سنن ابن ماجہ میں بھی ہے اور ترمذی میں بھی ہے اور ترمذی نے اس کو حسن قرار دیا ہے۔پس بہت سے رستوں سے بہت ہی قابلِ اعتما داحادیث کی کتب میں کثرت کے ساتھ اس حدیث کو بیان فرمایا گیا جو اصل الفاظ ہیں وہ قابل غور ہیں۔آپ نے فرمایا۔مـن تـرك الـجـمـعـة ثلث مرات تهاون بها طبع الله على قلبه “ (ترمذی کتاب الجمعہ حدیث نمبر : ۴۶۰) تھاون کا ترجمہ یہ کیا گیا کہ ہلکے پھلکے رنگ میں سستی کے طور پر غفلت کے طور پر وہ جمعہ چھوڑ دیا اور تھاوناً کا ایک مطلب ہے کہ جمعہ کی Institution کو جمعہ کے مقدس دن کو خفیف سمجھتے ہوئے بے حقیقت اور بے وزن سمجھتے ہوئے چھوڑ دیتا ہے میرے نزدیک یہ دوسرا معنی زیادہ مضبوطی کے ساتھ اس صورت حال پر اطلاق پاتا ہے کیونکہ اس کی سزا بہت سخت بیان ہوئی ہے۔غفلت کی وجہ سے اگر کوئی فرض رہ جائے تو اس پر ایسی سخت سزا یقینا تعجب انگیز ہے لیکن جب یہ فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر کر دے گا تو اس کا تعلق عام غفلت اور سستی سے نہیں بلکہ جمعہ کو معمولی سمجھنے سے اور حقارت کی نظر سے دیکھنے سے تخفیف کی نگاہ سے دیکھنے سے ہے۔پس وہ لوگ جو رفتہ رفتہ جمعہ کی قدر چھوڑ دیتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ کوئی فرق ہی نہیں پڑتا جمعہ پر حاضر ہوں یا نہ ہوں، ہو گئے تو ٹھیک ہے نہ ہوئے تو کیا ہے ان کے لئے اس میں بہت بڑا انتباہ ہے۔