خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 780 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 780

خطبات طاہر جلد ۱۱ 780 خطبه جمعه ۳۰ را کتوبر ۱۹۹۲ء جتنا اُس نے وعدہ کیا تھا اور بعینہ اتنی رقم ملنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ اتنا ہی دیتا ہے۔یہ محض ایمان بڑھانے کی خاطر کیا جاتا ہے۔یہ بتانے کی خاطر کہ یہ رقم ہم نے تمہاری قربانی کو قبول کرتے ہوئے مہیا کی ہے۔اس وہم میں نہ مبتلا ہو جانا کہ اتفاقاً ملی ہے اور یہ واقعات اس کثرت سے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔کینیڈا کے ایک دوست نے لکھا کہ میں نے فلاں وعدہ کر دیا تھا اور مجھے سمجھ نہیں آتی کہ کیسے پورا ہوگا ؟ میرا دل رکتا نہیں تھا مگر میں مجبور تھا اور اُس کے چند دن کے بعد مجھے ایک جگہ سے چٹھی ملی کہ تمہاری اتنی رقم ہمارے ذمے بنتی ہے جو غلطی سے ہم پیشگی میں کاٹتے رہے ہیں اس لئے وہ تمہیں بھجوا رہے ہیں وہ رقم بعینہ اتنی تھی جتنی اُس چندے کی رقم تھی جتنا اُس نے وعدہ کیا تھا تو ہم ایک زندہ خدا پر یقین رکھتے ہیں اس لئے کہ زندہ خدا کو روزمرہ اپنے اندر ظاہر ہوتا ہوا دیکھتے ہیں کسی فرضی خدا پر یقین نہیں رکھتے ، وہ غیب سے شہود میں آتا ہے، غیب کو حاضر کرتا چلا جاتا ہے۔جو جماعت ایسے خدا کے ساتھ زندہ ہو اس جماعت کو کبھی کوئی نہیں مار سکتا جب تک خدا کی معیت اسے حاصل ہے۔پس آخری بات تو یہی ہے کہ اپنے تقویٰ کی حفاظت کریں، ہماری ساری دولت ہمارے تقویٰ میں ہے ہماری ساری دولت ہمارے دل کی سچائی میں ہے، ہمارے اخلاص میں ہے، اس محبت میں ہے جو اللہ اور اس کے پاک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے، ان نیکیوں کی حفاظت کریں گے تو انشاء اللہ تعالیٰ آپ کا ہر قدم ترقی پر پڑے گا۔ہر قدم آگے ہی آگے بڑھتا چلا جائے گا آپ ہی وہ جماعت ہوں گے جن کے قدم کہکشاں پر پڑیں گے اور دنیا سراٹھا کر دیکھے گی کہ کیسی یہ جماعت تحت الثریٰ سے اتنی بلندیوں پر جا پہنچی ہے، ایک ہی نسخہ ہے اور وہ یہ ہے کہ خدا کی خاطر اپنے نفس کو مٹائیں اور تقویٰ اختیار کریں ہٹی میں مل جائیں تا کہ آپ کو ثریا تک بلند کیا جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کیا ہی سچ فرمایا کہ ے میں خاک تھا اُسی نے ثریا بنا دیا (در مشین : ۱۱۷) جس خدا نے مسیح موعود کو خاک سے ثریا بنایا ہے۔خدا کی قسم وہی خدا آج بھی زندہ ہے۔ہر قربانی کرنے والے کو خاک سے ثریا بنا تا چلا جائے گا اور وہ خدا کبھی نہیں تھک سکتا، اُس کے خزانے کبھی ختم نہیں ہو سکتے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی رحمتوں کو قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، ایسی اداؤں کی توفیق بخشے جن پر خدا کے پیار کی نظریں پڑتی رہیں۔یہی ہماری دولت اور یہی ہما را مدعا ہے زندگی