خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 779 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 779

خطبات طاہر جلد ۱۱ 779 خطبه جمعه ۳۰ را کتوبر ۱۹۹۲ء آپ اپنی توفیق تک قربانی کرتے ہیں وہاں خدا ٹھہر نہیں جایا کرتا بلکہ آپ کی وسعت بڑھا تا چلا جاتا ہے اور اُس وسعت کے مطابق جب آپ کو توفیق ملتی ہے تو آپ وسعت کے کناروں تک پہنچتے ہیں وہ خدا جس نے وعدہ کیا لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا ایک بار پھر آپ کی وسعتوں کی حدیں چوڑی کر دیتا ہے، وسیع کر دیتا ہے۔پھر آپ کو اگر توفیق ملے اُن حدوں کو چھونے کی تو وہ حدیں آپ سے آگے بھاگتی ہوئی دکھائی دیں گی۔پس نیکی کے معاملے میں میر امذ ہب یہی ہے کہ انسان کی توفیق کی کوئی حد نہیں ہے۔اپنی توفیق کے مطابق آپ کوشش کریں اللہ تعالیٰ اُس توفیق کو بڑھاتا چلا جائے گا۔غالب نے بھی تو کہا ہے۔ء میری رفتار سے بھاگے ہے بیاباں مجھ سے مگر خدا نے جو جنتیں ہمارے لئے قائم فرمائی ہیں ان کی حدیں ہم سے آگے آگے بھاگتی ہیں تا کہ ہمیں خدا کی جنتوں میں بھی تنگی کا احساس نہ ہو۔پس اللہ تعالیٰ ہماری برکتوں کی حدیں ہمیشہ وسیع تر کرتا چلا جائے ، ہماری وسعتوں کی توفیق بڑھاتا چلا جائے پھر ہم اُس کی راہ میں اپنی وسعتوں کی حد تک قربانیاں پیش کریں پھر وہ ہماری وسعتوں کی حدیں آگے بڑھا دے تا کہ ہم کبھی یہ نہ کہ سکیں کہ آج ہماری وسعتیں ختم ہو رہی ہیں اس لئے ہم خدا کی خاطر قربانی پیش نہیں کر سکتے۔بعض احمدی مجھے اپنے تجربات سے مطلع کرتے رہتے ہیں اور یہ تجربہ صرف میرا ہی نہیں، اس تجربے میں تمام دنیا کی جماعت کے بعض مخلصین کا تجربہ شامل ہے۔بسا اوقات مجھے بعض دوستوں نے خط لکھا ہے کہ ہم سمجھتے تھے کہ ہمیں فلاں قربانی کی توفیق نہیں ہے۔دل ڈرتا تھا لیکن آخر جیسے چھلانگ لگادی جاتی ہے خطرے میں ہم اپنے جذبے پر قابو نہ پاسکے اور ہم نے کہا ٹھیک ہے جو کچھ ہونا ہے ہو جائے۔ہم ضرور اس قربانی میں حصہ لیں گے۔حیرت انگیز طور پر خدا نے توفیق بڑھائی اور بعض تو ایسے عظیم واقعات ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔خاص خدا تعالیٰ کا غیب کا ہاتھ حاضر میں ظاہر ہوتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔غیب کو وہ شہود میں بدلتا ہے چنانچہ بکثرت ایسی مثالیں ہیں کہ ایک احمدی نے تنگی کے باوجود ایک ایسا وعدہ کر دیا جو اُس کی توفیق سے بہت بڑا تھا اور وہ یہ سمجھتا رہا کہ میں نے توفیق سے بڑھ کر یہ وعدہ کیا ہے شاید میں پورا نہ کرسکوں لیکن چونکہ غیر معمولی اخلاص کے ساتھ کیا تھا اس لئے اُس کو تنگ دستی کے بعد بعینہ اتنی رقم ملی