خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 777 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 777

خطبات طاہر جلدا 777 خطبه جمعه ۳۰ را کتوبر ۱۹۹۲ء ایسے کچھ خاندان ہیں جو امیر ہیں، صاحب توفیق ہیں اور ذوق وشوق سے کینیڈا کی دوسری مسجد میں شامل ہونے کے لئے جذبہ رکھتے ہوں۔اُن کو بھی موقع ہے یعنی کینیڈا کے علاوہ جو چاہے اس میں اپنی طرف سے مالی قربانی کرے مسی سا گا ٹورانٹو کا ہی ایک حصہ ہے۔ٹورانٹو مختلف شہروں پر مشتمل ہے اور اُن شہروں کا اجتماعی نام ٹورانٹو ہے۔ان میں وہ جگہ ہے یہاں ہم نے پہلی مسجد بنائی جیسا کہ آپ نے ٹیلی ویژن پر دیکھا ہو گا۔مسی ساگا کی میئر نے بڑے زور سے یہ مجھے یاد دلایا کہ تم نے وعدہ کیا تھا کہ میں انگلی مسجد مس ساگا میں بناؤں گا انشاء اللہ۔تو اب اُس وعدے کو پورا کرو یہ مسجد بن گئی ہے اب ہماری طرف توجہ کرو۔تقریب کے بعد یہ مجھے ملیں تو انہوں نے مجھے کہا کہ دیکھیں یہ صرف لفظی بات نہیں تھی میں دل کی گہرائی سے یہ بات کہ رہی تھی۔اب جذ بے گرم ہیں اس وقت فوری طور پر توجہ دیں میں ہر قسم کا تعاون کرنے کے لئے تیار ہوں۔آپ اپنے نمائندے بھیجیں، بہترین جگہ کی تلاش کریں اور ہر قسم کی سہولتیں ہماری میونسپلٹی آپ کو دے گی۔چنانچہ ان کے اس جذبے سے متاثر ہوکر میں نے اُسی وقت امیر صاحب کو ہدایت کی کہ بلا تاخیر اب آپ اس مسجد کا کام شروع کر دیں۔جہاں تک روپے کا تعلق ہے اگر چہ جماعت کینیڈا نے اتنی بڑی قربانیاں دی ہیں اس مسجد کے سلسلے میں کہ بظاہر معلوم نہیں ہوتا کہ اتنی جلدی دوسری مسجد بنا سکیں لیکن یہ اللہ تعالیٰ کے اس سلوک پر یقین ہے جو اب تک جماعت کے ساتھ رہا ہے انشاء اللہ تعالیٰ اس نئی مسجد کے لئے بھی جماعت کینیڈا کو خدا کے فضل سے بہت بڑی توفیق ملے گی۔کینیڈا کی مسجد کے نظارے آپ نے ٹیلی ویژن پر دیکھے ہیں اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہے کہ سب دنیا سے مجھے خط مل رہے ہیں۔بعض Faxes کے ذریعے پیغام مل رہے ہیں۔دور دور دنیا کے کونے سے لوگ لکھ رہے ہیں کہ ہم نے اپنی آنکھوں کے ساتھ جو نظارہ دیکھا یہی لگتا تھا کہ جیسے ہم اُس تقریب میں شامل ہیں اور چودہ ہزار، پندرہ ہزار میل دور سے بھی اسی قسم کی اطلاعات ملیں کہ بالکل صاف تصویر تھی بالکل صاف آواز تھی اور محسوس ہوتا تھا کہ گویا ہم بھی اُس مجلس میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ایک خط مجھے ناصر آبادسندھ سے بھی ملا وہاں میں کسی زمانے میں جایا کرتا تھا اپنی زمینوں پر وہاں ہماری کوٹھی کے ساتھ ایک بڑا صحن ہے جسے چمن کہتے ہیں حضرت مصلح موعودؓ نے بڑے شوق سے چمن کے رنگ میں باغ لگوایا تھا۔وہاں بچوں کے ساتھ بیٹھ کے مجلسیں لگا تا تھا اور ان کو گولیاں