خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 778
خطبات طاہر جلد ۱۱ 778 خطبه جمعه ۳۰ را کتوبر ۱۹۹۲ء وغیرہ تقسیم کیا کرتا تھا۔وہاں سے خط ملا ہے کہ ہم جو تر سے ہوئے تھے دیکھنے کے لئے۔اللہ نے ہماری یہ امید حیرت انگیز طریق پر پوری کی ، کبھی سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ ناصر آباد گاؤں میں بھی آپ کی تصویر پہنچے گی اور ٹیلی ویژن کے ذریعے آپ سے رابطہ قائم ہوگا، سارا گاؤں اُس چمن میں گیا اور اتنی صاف تصویر، ایسی صاف آواز تھی کہ یوں احساس ہوتا تھا کہ گویا ہم اس تقریب میں شامل ہیں۔بعض غیروں نے بھی حیرت انگیز طور پر اس تقریب پر اپنے مثبت جذبات کا اظہار کیا اور بعض ایسے پروفیسر ہیں جو اپنے اپنے ملک میں بڑی شہرت رکھتے ہیں مثلاً ایک ہنگری کے پروفیسر ہیں جو وہاں کی یونیورسٹی میں مذہب کے معاملے میں ایک سند مانے جاتے ہیں اور بین الاقوامی مذاہب کے مطالعہ میں اُن کا ایک بڑا مقام ہے۔مجھے امید نہیں تھی کہ وہ وہاں شامل ہوئے ہیں جب ہالینڈ پہنچا ہوں تو اُن کی طرف سے مجھے ٹیکس ملی۔اُس فیکس میں یہ تھا کہ میں فلاں ہوں اور مجھے بھی موقع ملا اُس تقریب میں شامل ہونے کا اور میں اتنا متاثر ہوں کہ اُس کا نشہ اترتا ہی نہیں۔میں گھر واپس آیا ہوں اُسی طرح مزا جاری ہے اور مجھے چین نہیں آ رہا جب تک میں آپ کو اطلاع نہ کر دوں کہ حیرت انگیز طور پر وہ کامیاب تقریب تھی اور بہت ہی خوبصورت مسجد بنانے کی آپ کو توفیق ملی اور جو نظارے ہم نے وہاں دیکھے ہیں وہ یاد گار نظارے ہیں جو ذہنوں سے تلف نہیں ہو سکتے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے اپنے اور غیر سبھی جماعت کی کوششوں کو سراہنے لگے ہیں اور جماعت احمدیہ کواللہ تعالیٰ جو کامیابیاں عطا کر رہا ہے۔یہی جماعت کی صداقت کا ثبوت بن کر دنیا کے افق پر چمک رہا ہے۔یہ کامیابیاں چمک رہی ہیں اور یہ افق دن بدن روشن تر ہوتا چلا جائے گا۔پس میں امید رکھتا ہوں کہ سب احمدی دنیا میں جو احمدی بھی میری آواز سن رہے ہیں وہ ان تحریکات میں حسب توفیق حصہ لیں گے۔ہر شخص کی توفیق مختلف ہے دل کی بھی اور اموال کی بھی لیکن اگر آپ حسب توفیق حصہ لیں گے تو میں یقین دلاتا ہوں کہ آپ کے اموال کی توفیق بھی بڑھائی جائے گی اور آپ کے دلوں کی توفیق بھی بڑھائی جائے گی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا (البقره: ۲۸۷) کہ خدا تعالیٰ کسی بندے پر اُس کی وسعت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔اس کا مفہوم عام طور پر لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ جب وسعت ختم ہوئی وہاں بوجھ ختم ہو گئے۔میں اس کا مفہوم اور جانتا ہوں اور میری زندگی کا تجربہ مجھے بتاتا ہے کہ جو میں سمجھتا ہوں وہ سچ ہے۔خدا تعالیٰ جس کی خاطر جب