خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 741
خطبات طاہر جلد ۱۱ 741 خطبه جمعه ۱۶ را کتوبر ۱۹۹۲ء اپنی جدائی کا فیصلہ کر لیا تھا لیکن جس کی طرف جارہے تھے وہ زیادہ محبوب تھا اس لئے رونے کی بجائے مسکرائے اور ہنس دیئے اور بڑے شوق اور خوشی کے ساتھ اپنے رب کے حضور یہ عرض کیا کہ فی الرفيق الاعلى في الرفیق الاعلیٰ اے اللہ میں نے عبادت گزار پیدا کر دیئے ہیں جو قیامت تک تیری عبادت کرتے چلے جائیں گے۔اب میرا یہ فیصلہ ہے کہ مجھے واپس بلالے میں تیرے قریب تر آ جاؤں۔پس اے محمد مصطفی ﷺ کے غلامو! پوری شان کے ساتھ عبادت کرو کہ قیامت تک تم پر بھی حضرت محمد مصطفیٰ کی مسکراتی ہوئی نظریں پڑیں۔محبت اور پیار کی آنکھیں تمہیں دیکھیں اور ہر بار ماء اعلیٰ پر خدا کی تقدیر یہ گواہی دے محمد مصطفی ﷺ کے دل کی آواز اور آپ کی روح کی آواز یہ گواہی دے کہ ہاں میرے بندے آج بھی زندہ ہیں جو قیامت تک میری بتائی ہوئی عبادت کی رسموں کو زندہ رکھیں گے، اُن کی جانیں بھی جائیں تب بھی وہ زندہ رکھیں گے، اُن کے عزیز اُن کے سامنے ذبح کر دیے جائیں تب بھی وہ زندہ رکھیں گے، اُن کو بڑی سے بڑی قربانی بھی پیش کرنے کی توفیق ملے تو خوشی سے پیش کریں گے لیکن عبادت کی حفاظت کے لئے اپنا جان، مال، آبرو ہر چیز قربان کرنے کے لئے تیار رہیں گے اگر تم ایسے بن جاؤ تو خدا کی قسم تم کامیاب ہو اور دنیا کی کوئی طاقت تمہیں مٹا نہیں سکتی۔آج کے مولوی اُن کے مقدر میں ناکامیاں لکھی جاچکی ہیں جو آپ کا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتے۔میں آخر پر اس اعتراف حقیقت کا دوبارہ ذکر کرتا ہوں جس سے میں نے آغاز کیا تھا۔اُس میں ایک عظیم اعتراف کیا گیا ہے جو حقیقت میں جماعت احمدیہ پر اس رنگ میں پورا اترتا ہے کہ گو الفاظ پورے نہیں اترتے مگر وہ مضمون جو ہے وہ بڑی شان کے ساتھ جماعت احمدیہ کے حق میں پورا اترتا ہے وہ آخر پر کہتے ہیں۔یہ کیا ہو رہا ہے تمام دنیا میں جماعت احمدیہ کا پیغام نشر ہو رہا ہے اور اس 66 شان کے ساتھ ہورہا ہے یہ آگے سے آگے بڑھتے چلے جارہے ہیں۔“ یہ مضمون پورا کرنے کے بعد آخر پر کہتے ہیں۔"خدا کے لئے اسلام کی عظمت کے ذریعے ، دین کی سر بلندی کے لئے رسول اللہ ﷺ کی ختم نبوت کے تحفظ کے لئے ،صحابہ کے ناموس کی حفاظت کے لئے اکٹھے ہو جائیں۔“