خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 740 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 740

خطبات طاہر جلد ۱۱ 740 خطبه جمعه ۱۶ را کتوبر ۱۹۹۲ء غلاموں کو میں نے عبادت کے آداب سکھائے ہیں اور عبادت کے ڈھنگ سکھائے ہیں وہ کیا میرے بعد عبادت کو جاری بھی رکھیں گے کہ نہیں۔پس آنحضرت ﷺ نے آخری خواہش جو اس دنیا میں پوری کی ہے وہ یہ کہ پردہ اٹھا کر ان نمازیوں کو دیکھا ہے جن کو آپ نے اس دنیا میں نماز کے آداب سکھائے تھے، اُن کے چہروں پر ایسے عزم کے آثار دیکھے، خدا کے لئے ایسی وفا کے جذبے دیکھے، ایسے سجدے کرتے ہوئے اُن کو دیکھا، رکوع کرتے ہوئے اُن کی روحوں کو دیکھا کہ آپ پہلے مسکرائے اور پھر ہنس دیئے۔پھر بڑی تسلی کے ساتھ ، پورے اطمینان کے ساتھ خدا کے حضور حاضر ہونے کے لئے تیار ہو گئے۔آنحضرت کا آخری کلام جس کے متعلق یہ کہ جب خدا تعالیٰ نے آپ سے پوچھا کہ اے میرے بندے تیرے لئے دو امکانات ہیں۔میں تجھے دو قسم کے رستوں پر چلنے کے فیصلے کا اختیار دیتا ہوں، ایک راہ اس دنیا میں کچھ اور دیر رہو اور اپنے فرائض کو ادا کرو اور وہ پایہ تکمیل تک پہنچیں یعنی مزید آگے بڑھیں اور ایک یہ کہ تم میری طرف واپس آ جاؤ۔سوال کرنے والے نے یہ سوال کیا تھا۔آنحضرت علی نے واپسی کی راہ کیوں اختیار کی ؟ خود تو نصیحت فرمایا کرتے تھے کہ موت کی دعا نہ کرو۔میں نے انہیں سمجھایا کہ یہ موت کی دعا نہیں ہے۔موت کی دعا نہ کرنا اس لئے ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں پسند نہیں فرما تا کہ اس دنیا کے کاروبار میں رہتے ہوئے جو آخرت کے لئے ہم کمائیاں کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اُن کے متعلق ہم خود یہ فیصلہ کر سکیں کہ ہم نے جو کچھ کرنا تھا کر لیا اور کسی وقت بھی موت کا فیصلہ خود کرنا ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے کیونکہ اس فیصلے کا مطلب یہ ہے کہ ہم ایسی حالت تک پہنچ چکے ہیں کہ گویا ابرار میں داخل ہو گئے اب کوئی خوف نہیں ، اب خدا کی طرف سے جو قضا آئے ہم ٹھیک ہیں۔یہ بندے کے بس کی بات نہیں ہے کہ وہ فیصلہ کر سکے مگر آنحضرت ﷺ کو جب خدا نے پوچھا تو حقیقت میں یہ گواہی دی کہ اے میرے بندے تو نے اپنے کام کو درجہ کمال تک پہنچا دیا ہے۔اب کچھ ایسا کرنا باقی نہیں رہا جس کے نتیجے میں تو اپنے مشن کو اُس آخری مقام تک پہنچا سکے جس تک پہنچانے کے لئے ہم نے تجھے مقررفرمایا تھا اس لئے اگر کچھ اور یہاں رہنا ہے اپنے عزیزوں اور قریبیوں اور پیاروں میں تو میں تجھے اجازت دیتا ہوں، شوق سے اجازت دیتا ہوں اور اگر میری طرف لوٹ کر آنا چاہو تو یہ بھی تجھے اجازت ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ صبح جو نماز کے لئے پردہ اٹھایا گیا ہے بعید نہیں کہ اس سے پہلے آنحضرت ﷺ کو یہ اطلاع مل چکی ہو کہ وقت آنے والا ہے اور اپنی آنکھوں سے یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ میرے غلاموں کا کیا حال ہے؟ اُس وقت آپ نے