خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 725
خطبات طاہر جلد ۱۱ 725 خطبه جمعه ۱۶ را کتوبر ۱۹۹۲ء ہے یعنی دنیا کے لحاظ سے۔ویسے تو سب سے بڑی شہادت وہی ہے جو اللہ دے اور اس شہادت میں اللہ کی شہادت کا بھی ذکر موجود ہے۔چنانچہ ہفت روزہ اہلحدیث لاہور میں ایک مقالہ شائع ہوا ہے بعنوان ”دینی جماعتوں کے لئے لمحہ فکریہ لکھتے ہیں: روز نامہ جنگ لاہور کے صفحہ آخر پر قادیانی سربراہ مرزا طاہر احمد کی خبر نے چونکا دیا حیران ہوں باطل پرست ستاروں پر کمندیں ڈال رہے ہیں۔“ ایک طرف باطل پرست کہہ رہے ہیں دوسری طرف ستاروں پر کمندیں ڈالنے کا ذکر ہے حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ستاروں پر کمندوں کی بات کی تھی مگر مہدی برحق کے لئے آنے والے نمائندے کے لئے پھر فرمایا تھا کہ جب اسلام کا محض نام باقی رہ جائے گا اور تمام عالم اسلام خرابیوں کا شکار ہو جائے گا یہ مضمون ہے تفصیلی۔اُس کے بعد آپ نے خوشخبریاں دیں جو خوشخبریاں دیں اُن میں عظیم تر خوشخبری یہ تھی۔لو كان الايــمــان عـنـد الثريا لنا له رجال من هولاء اور رجل من هولاء ( بخاری کتاب التفسیر حدیث نمبر : ۴۸۹۸) کہ ایمان ثریا پر بھی پہنچ گیا۔ثریا پر کمندیں ڈالنے والے میری امت میں سے وہ لوگ پیدا ہوں گے جو ثریا سے ایمان کو واپس کھینچ لائیں گے۔بات تو حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مانی جائے گی آنحضور ﷺ کی پیشگوئیوں کو جھٹلانے والوں کی بات تو نہیں مانی جائے گی۔پس کمندیں ڈالنے کی حد تک تمہارا اعتراف درست مگر اہل باطل نہیں اہل حق ہیں جو آسمان پر ستاروں پر کمندیں ڈالا کرتے ہیں۔پھر وہ کہتے ہیں کہ لیکن دینی جماعتیں باہمی سر پھٹول میں مصروف ہیں یہی تمہارا مقدر ہے۔تَحْسَبُهُمْ جَمِيْعًا وَقُلُوبُهُمْ شَتَّى (الحشر: ۱۵) تم اپنے دشمنوں کو بظاہر ایک دیکھتے ہو سی تمہاری مخالفت میں ایک اتحاد قائم کر لیتے ہیں لیکن اُن کا اتحاد مخالفت کے سوا کسی صورت میں نہیں ہوا کرتا۔آپس میں محبت کے نتیجے میں نہیں مل بیٹھا کرتے بلکہ تمہاری دشمنی میں مل بیٹھتے ہیں اس لئے تم سمجھتے ہو کہ وہ جَمِیعًا ہیں۔وَقُلُوبُهُمْ شَتَّی اُن کے دل پھٹے ہوئے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ یہ باطل جتھا ہے اور آسمان سے باتیں کر رہا ہے۔دینی جماعتوں کا نعوذ بالله من ذلک یہ حال ہے کہ آپس میں سر پھٹول میں مصروف ہیں۔یہاں بھی خدا کا کلام ہی مانا جائے گا۔دینی جماعتوں کے