خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 724
خطبات طاہر جلدا 724 خطبه جمعه ۱۶ را کتوبر ۱۹۹۲ء دیکھا جائے تو کتنا مبارک دن ہے کہ اُسے خدا کی عبادت کرنے والوں کے لئے تمام شمالی اور جنوبی امریکہ میں سب سے بڑا خدا کا گھر بنانے کی توفیق مل رہی ہے۔پس یہ بہت ہی مبارک دن ہے اور اس مبارک دن میں تمام دنیا کی جماعتوں کو شامل کرتے ہوئے میں تمام حاضرین کی طرف سے محبت بھرا سلام اور مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ایک اور تاریخی سعادت اس دن کو یہ ہے جس نے جماعت احمدیہ کے قافلہ کو جو شاہراہ اسلام میں دن بدن آگے بڑھتا چلا جا رہا ہے ایک اور مبارک خبر دی ہے، ایک اور سنگ میل ہے جو کئی منازل آگے بڑھا کر لگایا گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ گزشتہ چند خطبات میں میں یہ اعلان کرتا رہا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ جماعت احمد یہ عالمگیر کو یہ توفیق ملی ہے کہ چار براعظموں میں، دنیا کے چار براعظموں میں بیک وقت حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس عاجز غلام کی آواز ہی نہیں بلکہ تصویر بھی پہنچ رہی ہے اور اس طرح حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ الہام بڑی شان کے ساتھ پورا ہو رہا ہے کہ ”میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا۔“ ( تذکره صفحه: ۲۶۰) آج وہ مبارک دن ہے کہ جب میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ خدا کے فضل کے ساتھ آج حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی آواز اس عاجز کے ذریعے چار براعظموں میں نہیں بلکہ دنیا کے تمام براعظموں میں پہنچ رہی ہے اور ایک بھی گوشہ زمین کا ایسا باقی نہیں رہا جہاں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تبلیغ صوتی لحاظ سے بھی نہ پہنچ رہی ہو اور تصویری زبان سے بھی نہ پہنچ رہی ہو۔پس یہ بہت بڑا اور عظیم مبارک دن ہے جو در حقیقت آئندہ دور کے آغاز کی ایک منزل ہے۔آگے بہت کچھ اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ہونے والا ہے۔اس کی تفاصیل میں میں اس وقت نہیں جا تا لیکن آنے والا وقت انشاء اللہ تعالیٰ جماعت کے لئے خوشخبریوں پر خوشخبریاں لاتا چلا جائے گا۔اس ضمن میں ہمارے معاندین اور مخالفین جنہوں نے جماعت احمدیہ پاکستان پر غیر معمولی مظالم کئے اور دیگر ممالک میں بھی انہی کی تحریکات پر جماعت کے خلاف جھوٹ اور عناد کی تحریکیں چلائی گئیں۔اُن کا اعتراف میں آج آپ کے سامنے پڑھ کر سناتا ہوں کہ ان تمام تر کوششوں اور تمام تر ان بیہودہ حرکتوں کے نتیجے میں جو خدا کی ناراضگی کا موجب بنیں ان کو کیا حاصل ہوا اور ہمارے ہاتھ کیا آیا۔حقیقت میں جو شہادت عدو کی شہادت ہو وہی شہادت سب سے زیادہ اعتبار کے لائق ہوتی