خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 718 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 718

خطبات طاہر جلد ۱۱ 718 خطبه جمعه ۹ را کتوبر ۱۹۹۲ء بہت بڑے بڑے فساد واقعہ ہو جائیں گے اور ایک معافی کے نتیجہ میں دوسرے لوگوں کو جرم کی جرات ہوگی۔اگر واقفین کھلم کھلا اپنے عہد کو توڑتے ہیں مجبوری کی خاطر نہیں بلکہ اس وجہ سے کہ دنیا ادنیٰ تقاضے ان کو زیادہ پیارے لگ جاتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ ایسے ملکوں میں پہنچے ہیں جہاں دنیا کی نعمتیں موجود ہیں مگر پہنچے وہ جماعت کی وساطت سے اور وقف کے صدقے سے پہنچے ہیں اُن کا کوئی حق نہیں ہے کہ وقف کو ٹھوکر مار کر دنیا کی نعمتوں کو گلے سے لگالیں۔یہ وہ خیانت ہے جس پر میں سمجھتا ہوں مجھے معاف کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔سوائے اس کے کہ لمبے عرصے کے عذاب میں سے گزرنے کے بعد یعنی روحانی عذاب میں سے گزرنے کے بعد جن لوگوں کا ضمیر زندہ ہو اور ان کو بے چین رکھتا ہو پھر خدا تعالیٰ اُن کی تو بہ کو اس طرح قبول فرمالے کہ میرے دل میں بھی غیر معمولی طور پر اُن کی معافی کی طرف توجہ پیدا ہو جائے اور جو بھی خلیفہ آئندہ آئے اُس کے دل میں یہ توجہ پیدا ہو تو وہ الگ مسئلہ ہے لیکن ادھر یہ جرم کیا اُدھر معافی کے نام پر ، خدا کے نام پر ، رسول کے نام پر ہمیں معاف کر دیں اور دونوں باتیں اکٹھی ہضم کرنے دیں دنیا بھی رہ جائے اور دین بھی رہے یہ نہیں ہوسکتا پھر۔کئی صورتوں میں رہتے ہیں لیکن بعض صورتوں میں یہ دونوں اکٹھے نہیں رہ سکتے۔پھر جماعتی اموال کے غصب کرنے والے جن کو ان کا امین بنایا گیا تھا ان کے متعلق کوئی بڑی سزا تو نہیں دی جاتی۔یہ کوئی دنیاوی بدنی سزا نہیں ہوتی لیکن ایک ناراضگی کا اظہار ہے جو مختلف یکلیں اختیار کرتا ہے اس ناراضگی کے اظہار میں نرمی نہیں کی جاسکتی کیونکہ اگر کی جائے گی تو جماعت کا تمام مالی نظام درہم برہم ہو جائے گا، دنیا میں جماعت احمدیہ کے مالی نظام جیسا کوئی نظام نہیں ہے۔آپ چراغ لے کر ڈھونڈیں، دن کو ڈھونڈمیں، رات کو ڈھونڈیں، دنیا کے پردے پر سوائے جماعت احمدیہ کے ایسا عظیم الشان عالمی مالی نظام دکھائی نہیں دے گا، جس میں ہر شخص شریک ہے یعنی ہر شخص تو نہیں کہہ سکتے لیکن بھاری تعداد میں چھوٹے بڑے سب شریک ہیں، مرد عورتیں بچے سے شریک ہیں اور پھر اُن کی حفاظت کا سوائے تقویٰ اور دیانت کے کوئی انتظام نہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے سو سال سے جماعت ان اموال کی محض اللہ حفاظت کر رہی ہے اور اسی حفاظت کے برتے پر ، اس مان پر اس اعتماد پر کہ ہاں ہماری دولت امینوں کے ہاتھ میں ہے لوگ کھل کھل کر اپنے بچوں کے پیٹ کاٹ کر بھی مالی قربانیاں پیش کرتے ہیں۔یہ تقاضے اتنے عظیم ہیں کہ ان کو نظر انداز کر کے چھوٹی