خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 719 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 719

خطبات طاہر جلد ۱۱ 719 خطبه جمعه ۹ را کتوبر ۱۹۹۲ء چھوٹی معافی کی جذباتی چٹھیوں پر میرا معاف کر دینا کوئی آسان بات نہیں ہے بلکہ اکثر صورتوں میں میں بے اختیار ہوں۔پس یہ میری مراد تھی یہ نہ سمجھا جائے کہ ہر خیانت پر سختی کرنالازمی ہے۔بعض خیانتیں انسان کی اپنی خیانتیں ہوتی ہیں۔ذاتی طور پر کوئی خیانت کرتا ہے اُس میں بخشش سے کام لینا ہر گز گناہ نہیں ہے بلکہ بخشش اور عفو مستحب ہیں۔پھر بعض اور قومی بد دیانتیاں بھی ہوتی ہیں جو چھوٹی موٹی ہوتی ہیں ان میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ ارشاد ہے کہ چھوٹی موٹی عام بددیانتیوں میں خیانتوں میں حتی المقدور نرمی سے پیش آؤ۔چنانچہ آنحضرت ﷺ کو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ لوگ جو اہل کتاب ہیں ان پر ہم نے بدعہدی کے نتیجہ میں لعنت ڈالی تھی۔فَمَا نَقْضِهِم مِّيْثَاقَهُمْ لَعَثْهُمْ وَجَعَلْنَا قُلُوْبَهُمُ قسِيّة (المائدہ: ۱۴) انہوں نے ہمارے عہدوں میں بددیانتی کی یعنی خیانت سے کام لیا ہم نے ان پر لعنت ڈالی اور اس کے نتیجہ میں ان کے دل سخت ہو گئے۔يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِه بد دیانتی کی ایک شکل انہوں نے یعنی خیانت کی ایک شکل یہ اختیار کی کہ فرمان الہی کو سمجھتے ہوئے بھی اس کے مواقع اور مواضع سے اُٹھا کر ایسی جگہ استعمال کرنے لگے جو اُس فرمان کا منطوق نہیں تھا، مدعا اور مطلوب نہیں تھا۔پس اکثر علماء سے یہ خیانت ہوتی ہے۔یعنی دینی علماء جب خیانت میں مبتلا ہوتے ہیں تو ایسی بے باکی اور جرات اختیار کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے کلام سے وہ باتیں جو اُن کا دل گواہی دیتا ہے کہ اس مقصد کے لئے نہیں ہیں وہاں استعمال کرتے ہیں جہاں اُن کا ذاتی مقصد پورا ہور ہا ہو اور خدا کا مقصد پورا نہ ہورہا ہو۔چنانچہ اس طرح دین میں تحریف کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے پھر ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتا۔اس کے نتیجہ میں نہایت ہی بگڑی ہوئی فرقوں کی صورتیں اُبھرتی ہیں۔تو فرمایا کہ وہ لوگ جنہوں نے میرے عہد کو توڑا اور اُس میں خیانت سے کام لیا اُن کے ہم نے دل سخت کر دیئے ہیں اور سخت دل ہونے کے بعد علامت کیا ظاہر ہوئی۔يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَنْ موَاضِعا، وہ کھلم کھلا خدا کے کلام سے کھیلنے لگے۔دو باتیں الگ الگ ہیں پہلی بات اور اس بات میں فرق یہ ہے کہ پہلے تو وہ اپنی ذات کے متعلق تقاضوں کو پورا نہیں کرتے تھے۔جو عہد خدا سے انہوں نے باندھے تھے ان کو انہوں نے پورا نہیں کیا لیکن دوسروں کو دھوکا دینا اس میں شامل نہیں تھا۔جب