خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 696 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 696

خطبات طاہر جلد ۱۱ 696 خطبه جمعه ۲ اکتوبر ۱۹۹۲ء ہے۔یہ بڑے بڑے کام ہیں جن کی ان کو ضرورت ہے دنیا میں جہاں جہاں بھی احمدی ماہرین ان باتوں کو سن رہے ہیں اور وہ اپنا وقت پیش کر سکتے ہیں ان کو چاہئے کہ بلا تاخیر اپنے اپنے امراء کی وساطت سے اگر وہ پاکستان میں ہیں تو وہاں نصرت جہاں میں درخواستیں دیں، وہاں انتظام کیا گیا ہے۔سیکرٹری نصرت جہاں وہاں کام کر رہے ہیں وہ انشاء اللہ وہاں اکٹھی کر کے اپنے تبصرے کے ساتھ بھجوادیں گے اور جہاں تک باقی ممالک کا تعلق ہے امراء کو بھجوائیے اور امراء اپنی تصدیق کے ساتھ یا اپنے مشورے کے ساتھ مجھے چٹھیاں براہ راست بھجوادیں تا کہ جو کام مہینوں میں ہونا تھا وہ ایک ہفتے ، دس دن کے اندراندر مکمل ہو جائے اور پھر میں ان سے درخواست کروں گا کہ جائیں اور اللہ کی حفاظت میں ، خدا کی پناہ میں، خدا کی خاطر اپنے آپ کو، اپنے وجود کو، اپنے خاندانوں کو نیک کاموں میں جھونک دیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی یہ پیشگوئی ہمارے آنکھوں کے سامنے پوری ہو، جو خدا نے آپ سے وعدہ فرمایا ہے کہ آپ کی جماعت روس کے علاقوں میں ریت کے ذروں کی طرح پھیل جائے گی۔یہ سلسلے خدا ہی کے تھے اور انہیں سلسلوں کی پیروی میں اب یہ نئے سلسلے جاری ہوئے ہیں۔ایک طرف وعدے تھے دوسری طرف طلب پیدا ہورہی ہے اور میں امید رکھتا ہوں کہ انشاء اللہ اس کے نتیجے میں جو جماعت کا پیغام دنیا میں پہنچے گا خصوصاً USSR کے علاقے میں اس کو دنیا کی کوئی طاقت روک نہیں سکے گی۔خدا کی تقدیریں ہیں کوئی انسان کی تد بیر خدا کی تقدیر کو بدل نہیں سکتی۔ایک بہت اونچے طبقے کے ماہرین کی ضرورت ہے جو مارکیٹ اکانومی میں اعلی تعلیم رکھتے ہوں اور اعلی تجربہ رکھتے ہوں اور اسی طرح Foreign Nation کا بھی ان کو تجربہ ہو کیونکہ اس قسم کے ماہرین کی ضرورت ہے جو بہت اونچی سطح پر بعض حکومتوں کی خدمت کریں گے۔تو جولوگ ریٹائرڈ ہو چکے ہیں اور ان دونوں باتوں کے واقف ہیں ان کو چاہئے کہ وہ بھی فوری طور پر توجہ کریں۔صلى الله اب میں بقیہ وقت میں پھر اس مضمون کو شروع کرتا ہوں جو چند ہفتے پہلے شروع کیا گیا تھا اور یہ مضمون خیانت سے تعلق رکھتا ہے۔اس مضمون کو اختیار کرنے کی وجہ یہ ہے کہ حضرت اقدس محمد مصطفی میت ہے نے جھوٹ کے بعد سب سے زیادہ خوفناک اور ہولناک چیز جس کا ذکر فرمایا ہے وہ خیانت ہے جو مومن کی ایمانی حالت کو بالکل تباہ و برباد کر کے رکھ دیتی ہے اور اس کے متعلق آنحضرت یہ نے