خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 697
خطبات طاہر جلد ۱۱ 697 خطبه جمعه ۲ را کتوبر ۱۹۹۲ء مختلف جگہ ایسی عمدگی سے نصائح فرمائیں ہیں کہ جن سے انسان کی عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ آنحضور ﷺ کی انسانی فطرت پر کتنی گہری نظر تھی اور خدا کے کلام کو کس طرح انسانی فطرت کے بار یک گوشوں پر چسپاں کر کے ہم تک ان کے تعلقات واضح فرماتے تھے اور چھوٹی چھوٹی مثالوں میں بہت گہرے پیغام دے دیا کرتے تھے۔حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا! کہ مومن میں جھوٹ اور خیانت کے سوا دوسری برائیاں ہو سکتی ہیں اور یہ بڑی عجیب بات ہے۔بہت سے ایسے گناہ کبیرہ ہیں جن کے خیال سے انسان ڈرتا ہے، سمجھتا ہے، بہت ہی بھیا نک بیماری ہے جو ختم کر دے گی انسان کو لیکن آنحضرت ﷺ جن دو بنیادی بیماریوں کا ذکر فرمایا ہے وہ سب سے زیادہ خطرناک ہیں۔ایک جھوٹ ہے اور ایک خیانت اور فرمایا کہ مومن کی ذات میں یہ اکٹھی نہیں ہوسکتی۔اس پہلو سے سب سے پہلے تو جماعت کو اپنا انفرادی طور پر جائزہ لینا چاہئے کہ کیا وہ جھوٹ اور خیانت سے کلیت پاک ہیں۔اگر جائزہ لے تو انسان لرز اٹھے کیونکہ بڑے بڑے نیک لوگ بھی جھوٹ سے اور خیانت سے کلیۂ پاک نہیں ہوتے۔جھوٹ کی مختلف سطحیں ہیں بعض سطحوں پر آکر جھوٹ پھر بھی ان کے اندر پرورش پا رہا ہوتا ہے۔وہ اتنا خفیف ضرور ہو جاتا ہے کہ بیماری مہلک ہے لیکن اس مقدار میں مہلک نہیں ہوتی جس مقدار میں وہ پائی جاتی ہے۔وہ یہ نہیں ہوتا کہ ہر مہلک بیماری ہر انسان کو فوراً ختم کر دے۔بعض مہلک بیماریاں ہیں جو ابھی اتنی معمولی مقدار میں پائی جاتی ہیں کہ جسم پر غلبہ پانے کی طاقت نہیں رکھتی لیکن اگر انہیں چھوڑ دیا جائے اپنے حال پر تو رفتہ رفتہ ہلاک کر دیتی ہے۔تو مومنوں کی بھی مختلف قسمیں ہیں، بعض مومن وہ ہیں جن میں بیماریوں کو جڑ سے اکھیڑ پھینکنے کا عمل جاری ہو چکا ہوتا ہے۔ان پر اس حدیث کا اطلاق نہیں ہوگا ان معنوں میں کیونکہ وہ اس بات کا شعور حاصل کر لیتے ہیں کہ ہم میں جھوٹ بھی ہے، خیانت بھی ہے اور اس کے خلاف جہاد شروع کر دیتے ہیں اور جہاد کی حالت میں جو مارا جائے اسے آپ جھوٹا اور خائن نہیں کہہ سکتے۔اس لئے وہ مومن ہی شمار ہوگا لیکن جہاد نیک نیت سے کرے اور پوری طاقت سے کرے تو پھر میں امید رکھتا ہوں کہ اس حدیث کا اطلاق ان معنوں میں اس پر نہیں ہوگا کہ گویا وہ کلیہ ہلاک اور خدا کی بارگاہ سے رد ہو گیا ہے۔دوسرے وہ لوگ ہیں جو ایمان کا دعویٰ تو کرتے ہیں لیکن ان کے اندر جھوٹ پرورش پارہا ہے۔خیانت میں وہ بڑھتے چلے جارہے ہیں اور کوئی عار نہیں ہے، کوئی حیا نہیں ہے، کوئی شرم نہیں