خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 678
خطبات طاہر جلد ۱۱ 678 خطبه جمعه ۲۵ ستمبر ۱۹۹۲ء اور اُس کی اتنی زیادہ ضرورت بھی نہیں ہے۔ایک زمیندار اگر زمینداری کے تقاضے پورے کر رہا ہے تو جذباتی لحاظ سے وہ بیچ میں پوری طرح ملوث ہے یا نہیں۔یہ بے موقع ، بے معنی سی بات ہے۔لیکن اگر آپ تبلیغ کرتے ہیں تو زائد ضرورت یہ ہے کہ آپ کو جذباتی طور پر اس کے اندر مدغم ہو جانا چاہئے ، اُس تبلیغی کام کے ساتھ اور اُس میں اپنی ذات کو کھو دینا چاہئے ،محبت اور پیار کے جذبے سے تبلیغ کرنی پڑے گی اس لئے محض دماغ سوزی کی بات نہیں ، دل جلانے کی بھی بات ہے۔دل ڈالیں ، دل میں بے چینی پیدا کریں، بے قراری لگالیں ، ایک بیماری کی طرح دل کو ایک روگ لگ جائے کہ میں نے یہ کام کرنا تب جا کر وہ کام ہو گا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ پانی دنیا میں تو خدا تعالیٰ کی طرف سے از خودل جاتا ہے اور تھوڑی سی محنت کے بعد وہ پانی دریاؤں سے ہو یا چشموں سے ہو یا کنوئیں نکال کر ہو کھیتیوں اور باغوں تک پہنچا دیا جاتا ہے اُس میں دل کی بات نہیں ہے۔لیکن دعوت الی اللہ کے کام میں جو پانی آنا ہے یہ آپ کے دل کے روگ سے پیدا ہوتا ہے۔یا اُن دعاؤں سے آسمان سے برستا ہے جو داعی الی اللہ ان لوگوں کے لئے کرتا ہے جن کو ہدایت پہنچانا اس کی زندگی کا جز اعظم بن چکا ہوتا ہے اُس کا مقصد اعلیٰ بن جاتا ہے۔پس اُس کی گریہ وزاری میں شدید بے چینی پیدا ہو جاتی ہے اور بڑا پھل اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ اُنہی دعوت الی اللہ کرنے والوں کو نصیب ہوتا ہے جو اس طرح دعوت الی اللہ کے کام سے دل لگا بیٹھیں محض دماغی طور پر سمجھا دینا ، اس طرح دعوت الی اللہ کرو، اس طرح کرو، اس طرح کرو، ہرگز کافی نہیں ہے۔دعوت الی اللہ کا حقیقی پھل آسمان سے اترتا ہے۔یہ خاص تبدیلی اللہ تعالیٰ کی تقدیر سے پیدا ہوتی ہے اور اُس کا گہرا تعلق دعوت الی اللہ کرنے والے کے قلبی رجحان سے ہے۔پس آنحضرت ﷺ سے متعلق جو قرآن کریم میں یہ پڑھتے ہیں : لَعَلَّكَ بَاخِعُ نَّفْسَكَ أَلَّا يَكُوْنُوْا مُؤْمِنِيْنَ (الشعراء :٤) ایک دوسری جگہ ہے فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلَى أَثَارِهِمْ إِنْ لَمْ يُؤْمِنُوا بِهَذَا الْحَدِيثِ أَسَفًا (الکہف: ۷) دونوں کا مضمون ایک ہی ہے کہ اے محمد! کیا تو اس غم میں اپنے آپ کو ہلاک کر لے گا کہ یہ لوگ مومن نہیں ہو رہے کتنا گہرا غم تھا جو آپ نے دل کو لگا لیا۔پس دعوت الی اللہ کے لئے صرف عقل اور ذہن کا تعلق نہیں ہے۔حکمت کے تقاضے بعض قرآن کریم فرماتا ہے اُسے اہمیت دیتا ہے لیکن مرکزی بیچ کی بات جو قرآن بیان فرما رہا ہے وہ دل کی لگن اور ایک ایسی تمنا ہے جو ساری زندگی پر قبضہ کر لیتی ہے۔جو