خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 677 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 677

خطبات طاہر جلد ۱۱ 677 خطبہ جمعہ ۲۵ ستمبر ۱۹۹۲ء جائے۔پس جو باتیں وہ خود نہیں کر سکتا اپنی لاعلمی کی وجہ سے۔جب مجالس سوال و جواب میں مربیان یا دوسرے صاحب علم دوست یا مجھے موقع ملے میں شامل ہوں تو وہ علمی الجھنیں اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ حل ہو جاتی ہیں۔پھر انسان کے لئے وہ قدم اٹھانا آسان ہو جاتا ہے۔پس نتائج کو دیکھ کر یہ سمجھنا کہ نتائج اچانک پیدا ہوئے یہ درست نہیں، لمبی محنت درکار ہوتی ہے پھل لگنے کے لئے ، اگر چہ ایک تھوڑے سے موسم میں پھل لگتے دکھائی دیتے ہیں لیکن پھل لگنے کے لئے بیچ سے لے کر یا اُس کی جڑیں لگانے سے لے کر پھلوں تک کے درمیانی عرصے پر بھی تو غور کریں کہ ایک محنت کرنے والے نے کتنی محنت کی ہے۔آپ نے تو یہ دیکھ لیا کہ آم لگ گئے ہیں، بور آیا ہے آپ کی آنکھوں کے سامنے اور جلدی جلدی وہ پکنا شروع ہوا۔چند مہینے میں وہ پھل پک گیا یا چیریز کو دیکھا بڑے خوشنما پھول دیکھائی دیئے اور دیکھتے دیکھتے وہ چیریز بنی پھر موسم گزر بھی گیا۔لیکن جنہوں نے لگایا تھا اُن کو لگاتے بھی تو دیکھیں جنہوں نے حفاظت کی ہے اُن کو حفاظت کرتے ہوئے بھی تو دیکھیں۔پانی دیا اور ہر موسم سے حفاظت کی اور طرح طرح سے تیار کیا اور نقصان دینے والے جراثیم سے، پرندوں اور جانوروں سے بچایا تبلیغ بھی اسی قسم کا کام ہے۔مجالس سے پہلے کچھ کام ہونا ضروری ہے اور وہ کام ہے دراصل جو پھل کی بنیاد ڈالتا ہے۔اگر اُس کے بغیر آپ گائے بھینسوں کی طرح غلے کے غلے گھیر لے آئیں اور مجالس میں اکٹھا کر لیں اُس کا کوئی فائدہ خاص نہیں ہوتا۔شاذ کے طور پر اتفاقاً کسی دل پر اثر پڑ جائے گایا یہ ہو سکتا ہے کہ ذہن اس بات پر آمادہ ہو جائے کہ آئندہ میں دلچسپی لوں گا مگر نتائج نکالنے کے لئے بہر حال لمبی پہلے محنت چاہئے۔پس میں جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ دعوت الی اللہ کے کام کو سنجیدگی سے ایسے کاموں کی طرح لیں جو زندگی میں روزمرہ کے کام کئے جاتے ہیں اُن کی حقیقت سے انسان خوب آشنا ہے۔ایک تاجر جانتا ہے کہ تجارت اچانک پھل دار نہیں بن جایا کرتی ،نتیجہ خیز نہیں ہوا کرتی ، ایک زمیندار جانتا ہے کہ فصلیں کاشت کرنے کے لئے بھی لمبی محنت درکار ہے، باغ لگانے کے لئے اور بھی زیادہ محنت درکار ہے، سینچنا پڑتا ہے باغوں کو ، لمبی محنت کرنی پڑتی ہے۔دعوت الی اللہ کے کام کے لئے بھی ایسی ہی محنت بلکہ اس سے زیادہ توجہ کی ضرورت ہے۔عام محنت میں انسان کے جذبات اتنے گہرائی کے ساتھ اُس محنت میں شامل نہیں ہوا کرتے