خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 679
خطبات طاہر جلدا 679 خطبه جمعه ۲۵ ستمبر ۱۹۹۲ء صد الله اپنے خاک وجود کو جس طرح محبت جلاتی ہے، اس طرح جلانے لگتی ہیں، وہ تمنا چاہئے دعوت الی اللہ کے لئے اور وہی تمنا ہے جو حضرت اقدس محمد رسول اللہ لوہے کے دل میں اتنی شدت سے تھی کہ دنیا کے کسی نبی کے دل میں ایسی شدت پیدا نہ ہوئی ہو کیونکہ قرآن کریم نے جس طرح آنحضرت ﷺ کے دل کا حال کھینچا ہے دیگر انبیاء کے دل کی وہ کیفیت کسی اور الہی کتاب میں مندرج دکھائی نہیں دیتی۔پس دلسوزی کا کام ہے، عرق ریزی باہر کی بات ہے، دلسوزی اندر کی بات ہے زمیندار جو محنت کرتا ہے وہ عرق ریزی سے کرتا ہے، پسینہ بہاتا ہے اور مومن جو خدا کی راہ میں کھیتی پر محنت کرتا ہے اُس کا دلسوزی سے تعلق ہے اور وہ دل جلاتا ہے اور اُس کی دل کی گرمی سے آسمان سے رحمت کے بادل برستے ہیں جو اُس کے دل کو بھی ٹھنڈا کرتے ہیں اور اُس کی روحانی کھیتی کی آبیاری کا کام لیتے ہیں۔تو اس پہلو سے آج مجلس عاملہ میں بھی جب میں نے نصیحت کی تو یہی تھی کہ آپ میں سے ہر ایک نمونہ بن جائے ساری جماعت کے لئے ، اپنے دل کو بھی اس میں ڈال لیں تا کہ آپ کی نگرانی کے لئے کسی باہر کی آنکھ کی ضرورت نہ رہے۔دل کی آنکھ روشن ہو جائے خود آپ اپنے نگران بن جائیں۔فکر اگر ہو تو ویسی ہو جیسے محمد رسول اللہ ﷺ کی فکر اللہ کو تھی۔اللہ کے کام تھے اور اللہ روک رہا ہے اتنا دل کو نہ جلاؤ کہ اپنے آپ کو ہلاک کر بیٹھو، وہ فکر اور رنگ کی ہو جاتی ہے۔بعض مائیں ہیں جو بچوں کو کہتے کہتے تھک جاتی ہیں پڑھتے کیوں نہیں، پڑھتے کیوں نہیں ، پڑھتے کیوں نہیں اور بعض مائیں ہیں جو راتوں کو اٹھ کر پڑھتا دیکھتی ہیں تو اُن کا دل بیٹھنے لگتا ہے کہتی ہیں تم اپنی نظر گنوا بیٹھو گے تمہارے دماغ کو نقصان پہنچ جائے گا ، خدا کے لئے کچھ آرام کرو۔یہ ہے دلسوزی اُن لوگوں کے لئے جو دعوت الی اللہ میں منہمک ہو جاتے ہیں پھر آسمان سے خدا کی آواز آتی ہے بس کر وحوصلہ کر وا تنانہ دل جلاؤ کہ تمہارے دل کا ضیاع ہو جائے۔یہ جب لگن ہو جائے تو ایسی دعوت الی اللہ لازماً پھل دیتی ہے ناممکن ہے کہ پھل سے محروم رہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کیسا پاکیزہ تجزیہ فرمایا ہے اور میں عش عش کر اٹھتا ہوں جب اُس تحریر کو پڑھتا ہوں یا وہ جب مجھے یاد آتی ہے۔آنحضرت ﷺ کی کامیابی کا راز ہے جیسا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے سمجھا۔1400 سال کے عرصے میں بڑے بڑے امت میں بزرگ گزر گئے مگر کوئی اس راز کو پانہیں سکا۔آپ نے فرمایا کہ یہ جو تو نے عجیب ماجرا عرب کے بیابانوں میں ہوتا دیکھا۔یہ حیرت انگیز