خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 668
خطبات طاہر جلد ۱۱ 668 خطبه جمعه ۸ ار ستمبر ۱۹۹۲ء اور حدیث سیکھنے کے لئے بہت سے لوگ ایسے ہیں جن کو پہلے موقع ہی کبھی نہیں ملا۔تو مرکز سے رابطہ کریں ان سے لٹریچر منگوائیں ان سے ٹیسٹس منگوائیں ، ویڈیوز منگوائیں اپنے پروگراموں کو دلچسپ بنائیں۔بوریت تو آپ کی اندرونی حالت کا نام ہے۔ایک انسان جس کی اندرونی حالت میں تازگی پائی جائے اور زندگی کے اندر دلچسپی کا طریقہ ہو وہ تو تنہائی میں بھی کبھی بور نہیں ہوتے۔اگر بزرگ ہے تو ذکر الہی میں لگا رہے گا اگر شاعر ہے تو شعر و شاعری میں وقت لگائے گا۔اگر آرٹسٹ ہے تو اپنے آرٹ کے اظہار کے لئے کوئی بہانے تلاش کرے گا۔صحیح آدمی جس کے اندراندرونی لذتیں پائی جاتی ہیں بور ہو نہیں سکتا۔غالب نے خوب کہا ہے کہ ہے آدمی بجائے خود اک محشر خیال ہم انجمن سمجھتے ہیں خلوت ہی کیوں نہ ہو (دیوان غالب صفحہ ۱۹۴۰) کہ اگر انسان اپنے اوپر غور کرے تو اپنی ذات میں خیالات کا ایک محشر ہے۔جس طرح محشر میں مُردے اٹھائے جائیں گے اور ہزاروں لاکھوں کروڑوں اُٹھ کھڑے ہوں گے۔غالب نے کتنی سچی بات کی ہے کہ انسان کے اندر اللہ تعالیٰ نے خیالات کے لاکھوں کروڑوں مُر دے دفن کر رکھے ہیں جو جاگ سکتے ہیں۔اگر انسان میں شعور ہو اور ان کو جگائے اور اٹھائے تو ایک محشر بپا ہو جائے۔وہ کہتا ہے ہم انجمن سمجھتے ہیں خلوت ہی کیوں نہ ہو تنہائی ہی کیوں نہ ہو ہمارے لئے تو انجمن ہی انجمن ہے۔ہم اپنے خیالات میں کھو کر ان سے اپنی لذتیں حاصل کر لیتے ہیں۔جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے ایک عابد ذکر الہی میں مصروف ہو جاتا ہے۔ایک شاعر شعرو شاعری میں، ایک آرٹسٹ اپنے آرٹ میں۔کچھ نہ کچھ کام کرنے کی عادت ہو، سلیقہ ہو تو انسان بور نہیں ہوسکتا۔تو اپنے آپ کو بریکار کیوں بناتے ہیں۔آپ کے لئے بہت سے کام ہیں کرنے والے۔مرکز سے رابطے کریں، ایسے حکومت کے اداروں سے رابطے کریں جو زبان سکھانے والے ہیں ان سے آڈیو، ویڈیو کی چیزیں حاصل کریں، مشینیں جن سے آپ کو زبان سیکھنے میں سہولت ہو ، تعلقات بڑھا ئیں فارم والوں کے پاس جائیں۔ان کی مدد کریں ان سے کہو ہم سے بھی کام لو، ہم بیکار بیٹھے ہوئے ہیں اور ان سے فارمنگ سیکھیں، زبان سیکھیں۔تعلقات بڑھائیں تو اس سے آپ کو اللہ تعالیٰ کے فضل سے تبلیغ کے بھی بہت اچھے مواقع میسر آجائیں گے۔