خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 625
خطبات طاہر جلد اا 625 خطبه جمعه ۴ ستمبر ۱۹۹۲ء بھی بدترین اور سیاست میں بھی بدترین اور تمدن میں بھی بدترین اور اقتصادیات میں بدترین اور اب خدا کو کہتے ہو کہ وہ تمہارے مشورے سے کارروائی کرے اور تمہارے مزاج کے مطابق لیڈر بنائے یہ نہیں ہوگا۔ نکتے کی بات یہ ہے کہ اللهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ اللہ جانتا ہے کہ یہ فیصلہ خدا کرے گا کہ اس نے کس کو اپنا نمائندہ بنا کر بھیجنا ہے اور کس کو نہیں بھیجنا ۔ سَيُصِيبُ الَّذِينَ أَجْرَمُوا صَغَارُ عِنْدَ اللهِ یقیناً وہ لوگ جو جرم کرتے ہیں ان کو صغار پہنچے گی یعنی وہ اللہ کے نزدیک جھوٹے ہوں گے، ذلیل کر کے دکھا دیئے جائیں گے اور جب کوئی اللہ کے نزدیک چھوٹا بنا دیا جائے تو پھر دنیا کی تقدیر بھی اس کو چھوٹا بنا کر دکھاتی ہے اور آخرت میں اس سے جو سلوک ہوگا وہ تو ظاہر ہے فرمایا وَ عَذَابٌ شَدِيدٌ بِمَا كَانُوا يَمْكُرُونَ اور ان کے لئے شدید عذاب مقرر ہے اس سبب سے کہ وہ مکر سے کام لیتے تھے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس عبارت کے آخری حصہ میں جو میں نے آپ کے سامنے پڑھ کر سنائی ہے یہ بیان فرمایا ہے کہ ایسا شخص جو دین میں مکر سے کام لیتا ہے اس کا حال یہ ہے کہ وہ خیال کرتا ہے کہ اسباب کے ذریعہ جو میسر آگئے ہیں ایک مظلوم کو انتہا درجہ کے ظلم کے ساتھ پیس ڈالوں گا۔ یہ مکر حضرت محمد ﷺ کے خلاف سب سے زیادہ استعمال کئے گئے ۔ ہر قسم کے مشورے ہوئے ، کار روائیاں ہوئیں اور دعویٰ یہ تھا کہ ہم اس جھوٹ کو اور فریب کو پہنے نہیں دیں گے اور عمل یہ تھا کہ سچائی کے خلاف ہر قسم کے جھوٹ اور فریب سے خود کام لے رہے تھے۔ بعینہ یہی شکل آج احمدیت ہرفتم ۔ کو در پیش ہے ، اسی صورتحال کا سامنا ہے، ہمارے سامنے جتنے دشمن ہیں وہ مکر سے کام لیتے ہیں مگر جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ وہ شریر اس کام کے نتیجہ سے بے خبر رہتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کو اُس کے اصل نتیجہ سے بے خبر رکھتا ہے۔ اس کی ایک بڑی کھلی مثال یہ ہے کہ جب ضیاء الحق صاحب نے جماعت کے خلاف وہ بدنام زمانہ آرڈینینس جاری کیا جس کے نتیجہ میں جماعت کو بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تو ایک بہت بڑی سازش اس سے پہلے تیار ہو چکی تھی اس کے بعد اس کا ایک حصہ ظاہر کیا گیا اور وہ یہ تھی کہ جماعت احمدیہ کی خلافت کا نظام ختم کیا جائے اور کوئی