خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 626 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 626

خطبات طاہر جلد ۱۱ 626 خطبه جمعه ۴ ستمبر ۱۹۹۲ء بہانہ رکھ کر خلیفہ وقت کو قید کیا جائے ، پھر اس کو قتل کیا جائے یا پھانسی چڑھایا جائے اور دنیا میں بدنام کیا جائے کہ ایک مجرم کے طور پر ہم اس کو پھانسی دے رہے ہیں اور اس کا انتظام نظام خلافت سے لیا جائے کہ یہ نظام اتنا خطر ناک ہے یہ تو لوگوں کے لئے قتل وغارت کے لئے وقف ہو چکا ہے اور خلافت اور دنیا میں شر پھیلانا ایک ہی چیز کے دو نام بن گئے ہیں۔اس لئے ہم خلافت احمدیہ کو اپنے ملک میں تو نہیں چلنے دیں گے۔یہ Institution ختم کی جاتی ہے یعنی جو نظام خدا جاری کرتا ہے، جو تیرہ سوسال انتظار کے بعد خدا تعالیٰ نے جاری فرمایا ان بدبختوں نے اپنے مکر سے اسے مٹادینا چاہا۔يُرِيدُونَ لِيُطْفِئُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَاللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَوْكَرِهَ الْكَفِرُونَ (الصف:۹) یہ لوگ چاہتے ہیں کہ خدا کے نور کو اپنے مکر کی پھونکوں سے بجھا دیں۔یہ نہیں ہوگا۔اللہ نے جونور جاری فرمایا اُس کو اختتام تک ، درجہ کمال تک زندہ رکھے گا اور اُس کی حفاظت فرمائے گا۔چنانچہ خدا نے اس کے مقابل پر جو مکر خیر کئے ہیں ان کو دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے ساری تفصیل تو غالباً پہلے بھی آپ کے سامنے بیان کی جاچکی ہے۔مختصراً یہ بتا دیتا ہوں ۱۹۸۴ء میں جو منصوبہ منظر عام پر آیا ہے اس کی تیاری بہت پہلے سے ہو چکی تھی۔۱۹۸۳ء کے شروع ہی میں حکومت کی طرف سے با قاعدہ ایک حکم جاری ہو چکا تھا کہ جماعت احمدیہ کا سر براہ اس ملک کو ملک کی کسی سرحد سے کسی ذریعہ سے بھی چھوڑ کر نہیں جا سکتا اور اب تک کے شواہد یہ ہیں کہ یہ حکم ضیاء الحق صاحب نے خود لکھوایا تھا اور اسی میں اللہ تعالیٰ نے جماعت کے حق میں ان سے مکر خیر کرایا جو ان پر مکر شربن کر پڑا۔ان کو چونکہ مرزا ناصر احمد کہنے کی عادت تھی اور اپنے اقتدار کا اکثر حصہ انہوں نے حضرت خلیفہ اسیح الثالث کی خلافت میں گزرا ہے تو ان کے منہ سے مرزا ناصر احمد کے الفاظ نکل گئے کہ Mirza Nasir Ahmad,Head of the Ahmadiyya community can not leave the country۔۔۔یا جو بھی آگے تفصیل تھی۔نتیجہ یہ نکلا کہ جو حکم تھا وہ اسی طرح جاری رہا اگر وہ حکم کسی چھوٹے افسر نے بنایا ہوتا تو اس کی تو انہوں نے کھال ادھیڑر دینی تھی کیونکہ جس پاسپورٹ آفیسر کی طرف سے مجھے پاسپورٹ جاری ہوئے تھے سارے ملک کی مختلف ایجنسیاں اُس کے پیچھے پڑ گئی تھیں لیکن چونکہ