خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 624 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 624

خطبات طاہر جلد ۱۱ 624 خطبه جمعه ۲ ستمبر ۱۹۹۲ء ا بڑے لوگوں کے کردار کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے لیکن وَمَا يَمْكُرُوْنَ إِلَّا بِأَنْفُسِهِمْ یہ جو بھی مکر کرتے ہیں یہ اُن پر الٹایا جائے گا بالآخر اس کے نقصانات ان کو ضرور پہنچیں گے۔پس یہ دنیا جو بعض دفعہ بڑی بڑی ہولناک جنگوں میں دھکیل دی جاتی ہے یہ اسی آیت کی سچائی کی دلیل ہوتی ہیں ایسی جنگیں یہ بتاتی ہیں کہ وہ سیاستدان جنہوں نے چالاکیوں سے خوب کام لیا، مکروفریب کو خوب استعمال کر کے اپنی قوم کی بڑائی کی خاطر یا دوسری قوم کو نیچا دکھانے کے لئے ہر قسم کے دھو کے دیئے بالآخر جنگوں میں مبتلا ہو کر خود بھی ہلاک ہوئے اور اپنی قوموں کو بھی حد سے زیادہ عذاب میں مبتلاء کر دیا تو یہ صورتحال ہے یہ مذہبی دنیا میں بھی بالآخر اسی طرح انجام پذیر ہوتی ہے۔جو مذہب میں دھوکہ دینے والے ہیں وہ پھر ضرور پکڑے جاتے ہیں۔دنیا والے دنیا میں مکر کرتے ہیں وہ جب پکڑے جاتے ہیں تو اپنے ہی مکروں کے جال میں پھنستے ہیں اور مذہب میں جو دھوکہ دیتے ہیں ان کا براہ راست خدا سے مقابلہ ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی تقدیر سے ٹکر لیتے ہیں اس لئے ان کا حال ہر دوسرے مگر کرنے والے سے زیادہ بدتر ہوتا ہے۔ان کے متعلق فرماتا ہے کہ وَإِذَا جَاءَتْهُمُ ايَةٌ قَالُوا لَنْ نُؤْمِنَ حَتَّى نُوتُى مِثْلَ مَا أُوتِيَ رُسُلُ اللهِ جب بھی کوئی دعویدار آتا ہے۔اُن کے سامنے کوئی نشان ظاہر ہوتے ہیں تو بڑی طعن کے ساتھ اور تکبر کے ساتھ کہتے ہیں کہ ہم ہرگز ایمان نہیں لائیں گے جب تک ویسے نشان نہ دکھاؤ جیسے اللہ کے رسولوں کو دکھائے جاتے تھے اور یہ معاملہ خدا کے ہر رسول سے ہی کیا جاتا ہے۔یہ آواز جو ہر طرف سے آپ کے کانوں میں پڑتی ہے کہ ہم مرزا صاحب کو نہیں مانیں گے جب تک وہ نشان نہ دکھائیں جو خدا کے پہلے رسولوں نے دکھائے تھے یہ کوئی نئی آواز نہیں ہے۔قرآن فرماتا ہے کہ ہر دعویدار کو یہی کہا گیا کہ تو کہاں سے رسول آ گیا۔ہمیں رسولوں والے نشان دکھا اور یہ بد نصیب ہمیشہ رسولوں والے نشانوں کو پہچاننے سے محروم رہ جاتے ہیں۔فرمایا اللهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَہ کیسی نکتے کی اور گہری نفسیاتی حقیقت بیان فرمائی گئی ہے۔فرمایا اصل بات یہ ہے کہ تم پسند نہیں کرتے کہ جس شخص کو مقرر کیا گیا ہے اُسے مقرر کیا جائے یہ ہے ساری بات۔ایک شخصی تنافر ہے۔ایک اختلاف ہے جو تمہارے اور اس شخص کے مزاج اور اس کی شخصیت کا اختلاف ہے تو یہ بات تو اس طرح نہیں چلے گی اللہ فیصلہ کرے گا تم نے پسند کے مطابق جو لیڈر چنے ہیں وہ تو ہمیشہ بدترین ہوتے ہیں جیسا کہ پہلے ذکر کر دیا گیا۔مذہب میں