خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 611
خطبات طاہر جلدا 611 خطبه جمعه ۲۸ / اگست ۱۹۹۲ء ان کو عقل دے۔ان سب بلاؤں کا جو دنیا پر نازل ہو رہی ہیں دکھ آخر احمدی کے دل پر ٹوٹتا ہے کیونکہ خدا گواہ ہے کہ ہمیں سچے دل سے بنی نوع انسان سے محبت ہے اور سچے دل سے پیار ہے اس لئے میں جماعت احمدیہ کو خصوصیت سے دعا کی طرف متوجہ کرتا ہوں۔اس کے بعد ایک اعلان کرنا ہے ملک صومالیہ میں جو کچھ ہورہا ہے وہ بھوک کے اتنے دردناک عذاب میں مبتلا ہو چکا ہے کہ اس کے تصور سے بھی رونگٹے کھڑے ہوتے ہیں۔جماعت احمد یہ بڑی دیر سے کوشش کر رہی تھی کہ کسی طرح ہمارا رابطہ ہو۔ہم و دوہاں پہنچیں اور خدمتیں کرسکیں اور جماعت نے افریقہ کے غریب ملکوں کے لئے جو قربانی پیش کی ہے اس میں سے صومالیہ کو حصہ دیا جائے کوئی پیش نہیں کی گئی کیونکہ خدمت کے جو انتظامات اور نظام ہیں ان پر بھی ان قوموں کا قبضہ ہے اور اپنی مرضی کے خلاف کسی کو اجازت نہیں دیتے۔آخر میں نے یہ فیصلہ کیا ہے اور امریکہ کو بھی ہدایت کی ہے اور انگلستان کو بھی کہ خدمت کے لئے جو روپے آپ کے پاس اکٹھے ہیں وہ جس ادارے کے ذریعہ بھی پہنچتے ہیں وہ دیں تو سہی کچھ نہ کچھ ، ہمارے ضمیر کا بوجھ تو کچھ ہلکا ہو گا لیکن باقی دنیا کے ممالک کو بھی نصیحت کرتا ہوں کہ جو کچھ تو فیق ہے وہ ضرور صومالیہ کے اپنے غریب بھائیوں کے لئے مسلمان کی حیثیت سے نہیں ایک انسان کی حیثیت سے پیش کریں۔اس کے علاوہ تمام بڑے بڑے ملکوں میں جماعت احمدیہ کو یہ جائزہ لینا چاہئے کہ جس طرح ریڈ کر اس وغیرہ انٹر نیشنل سوسائٹیز ہیں اسی طرح اگر مذہبی سوسائٹیاں بھی ایک بین الاقوامی حیثیت سے پہچانی اور جانی جائیں اور اُن کا ایک مقام قائم ہو سکتا ہو تو اب وقت آگیا ہے کہ جماعت احمدیہ کو اپنی آزاد سوسائٹی بنانی چاہئے جو جماعت احمدیہ کی مرضی کے تابع خدمت کرے اور تقویٰ اور انصاف کے ساتھ خدمت کرے اور مذہب وملت اور رنگ ونسل کے امتیاز کے بغیر خدمت کرے۔اس خدمت میں شریف النفس غیروں کو بھی ساتھ شامل کرے تو جائزہ لینا چاہئے۔جہاں تک میرا تا ثر ہے عیسائی انجمنوں کو اس بات کی اجازت بھی ہے اور با قاعدہ یونائیٹڈ نیشنز کے ساتھ رجسٹر ڈ ہیں اگر میرا یہ تاثر درست ہے تو جماعت احمدیہ کو پورے زور سے کوشش کر کے اب بین الاقوامی خدمت خلق کا ادارہ قائم کرنا چاہئے اور اس ادارے کا دائرہ کا رتمام بنی نوع انسان تک عام ہوگا اور اس میں صرف احمدیوں سے چندہ نہیں لیا جائے گا بلکہ دنیا کے کسی بھی شریف النفس انسان سے جو اس ادارے میں شامل ہو کر خدمت کرنا چاہتا ہو اس کو بھی خدمت کا موقع