خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 612
خطبات طاہر جلد ۱۱ 612 خطبه جمعه ۲۸ / اگست ۱۹۹۲ء دیا جائے گا۔اللہ تعالیٰ اس کی توفیق عطا فرمائے۔ایک آخری بات اب میں جنازے کے متعلق بیان کرنا چاہتا ہوں۔ابھی جنازہ غائب ہوگا۔جماعت کے بہت سے خدمت کرنے والے ، پرانے بزرگ اور غیر معروف لیکن نیک لوگ گزشتہ چند ماہ کے عرصہ میں ایسے رخصت ہوئے ہیں کہ ان میں سے بعض کو میں جانتا ہوں بعضوں کے متعلق صدر انجمن کی طرف سے سفارشیں آئی ہیں کہ ہمارے علم کے مطابق متقی اور پر ہیز گار لوگ تھے۔جنازہ میں مثلاً پورے لوگ شامل نہیں ہو سکے یا بچوں نے بے قراری سے خواہش ظاہر کی ہے یا خود انہوں نے مرنے سے پہلے خواہش ظاہر کی کہ میں ان کا جنازہ پڑھاؤں۔ان کی فہرست غالبا سنا - دی گئی ہے۔مسعود جہلمی صاحب کا وصال ہوا۔جرمنی میں بطور مبلغ فریضہ خدمت سر انجام دے رہے تھے۔کوئی دو تین سال پہلے ایک ابتلا بھی آیا۔میں ان سے ناراض بھی ہوا اور اس ناراضگی میں میرے لئے بہت تکلیف تھی۔بعد کے خطبہ میں میں نے تفصیل سے روشنی بھی ڈالی۔واقعہ یہ ہے کہ ان کے ساتھ مجھے دیرینہ قلبی محبت تھی اور ان کے سارے خاندان سے بڑا گہرا تعلق تھا لیکن نظام جماعت مجھے اتنا پیارا ہے کہ جب نظام جماعت کو خطرہ دیکھوں تو کوئی قلبی تعلق کوئی مخرب اس کی راہ میں حائل نہیں ہوسکتا تو میری بھی آزمائش تھی اور ان کی بھی آزمائش تھی۔اللہ تعالیٰ نے مجھ پر فضل فرمایا اور میں اس۔آزمائش پر پورا اترا اور میں پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ کوئی قلبی تعلق نظام جماعت کی حفاظت کے موقع پر میری راہ میں حائل نہیں ہوا اور خواہ کیسا ہی کڑوا وہ فرض تھا میں نے پوری طاقت سے اسی طرح ادا کیا جس طرح کسی غیر کے معاملہ میں میں ادا کر سکتا تھا اور ان پر خدا نے فضل فرمایا کہ غیر معمولی وفا کے ساتھ اور ثبات قدم کے ساتھ اس ابتلا میں نظام جماعت کے ساتھ چمٹے رہے۔عروہ ودھی سے ان کا ہاتھ نہیں چھوٹا اور اپنی اولاد کو بھی یہی نصیحت کی ، اپنے رشتہ داروں کو بھی نصیحت کی۔ان کا تعلق والا ایک بھی ایسا نہیں ہے جس نے ٹھو کر کھائی ہو۔ان کی وفات کے وقت مجھے خیال آیا کہ ان کے کتبے پر کیا لکھنا چاہئے تو حضرت مصلح موعود کا یہ مصرعہ یاد آ گیا۔میں نے کہا اور چند باتوں کے علاوہ وہ بہت موزوں رہے گا۔بے وفاؤں میں نہیں ہوں میں وفاداروں میں ہوں (کلام حمود: ۸۴)