خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 610 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 610

خطبات طاہر جلدا 610 خطبه جمعه ۲۸ اگست ۱۹۹۲ء قانون قدرت اللہ کی مرضی کے تابع چل رہا ہے۔پھر فرمایا اَوْ يَأْخُذَهُمُ فِى تَقَلُّبِهِـ نمَا هُمْ بِمُعْجِزِینَ اور خدا تعالیٰ یہ بھی کر سکتا ہے کہ ان کی حرکات کے دوران ان کو پکڑے۔تقلب سے مراد ایک جگہ کو چھوڑ کر دوسری جگہ اختیار کرنا ، ایک طرز کو چھوڑ کر دوسری طرز اختیار کرنا، ایک انداز کو چھوڑ کر دوسرا انداز اختیار کرنا۔یہ جو چالا کیوں سے کروٹیں بدلتے اور پینترے بدلتے ہیں یا ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتے ہیں۔ان کی سیاستیں بھی کروٹیں بدل رہی ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ اسی میں یہ محفوظ ہیں، اللہ تعالیٰ انہیں چالا کیوں میں ان کو پکڑ سکتا ہے۔انہی پینتروں میں یہ مارے جائیں گے۔فَمَا هُمْ بِمُعْجِزِینَ یہ خدا کی تقدیر کو عاجز نہیں کر سکتے۔اَوْ يَأْخُذَهُمْ عَلَى تخوف اللہ تعالیٰ اگر یہ فیصلہ فرمائے کہ رفتہ رفتہ ان کی عظمتیں ایک قصہ پارینہ بنادی جائیں اور رفتہ رفتہ یہ اپنی بلندیوں سے اُترنا شروع ہوں اور دنیا کی آنکھوں کے سامنے گھٹتے چلے جائیں اور آج طاقت و قو میں کہلاتی ہیں یہ کل کمزور قوموں کی صورت میں دنیا میں ظاہر ہوں ،اگر خدا کی تقدیر یہ کام کرنا چاہے تو کون ہے جو خدا کے ہاتھ روک سکتا ہے؟ پس وہ قومیں جو مکر وفریب کے ذریعہ اور اپنی طاقت کے برتے پر کمزوروں کو نقصان پہنچاتی ہیں ان کے لئے یہ تین ذریعے ہیں جو قرآن کریم نے بیان فرمائے ہیں کہ ان ذریعوں سے ان کو سزا ملتی ہے مگر کم ہیں جو نصیحت پکڑتے ہیں۔مجھے تو اُن مسلمان ملکوں پر زیادہ افسوس ہے جنہوں نے سچائی کو پایا ، جن کی خاطر یہ شان دار کلام نازل فرمایا گیا۔محمد مصطفی ﷺ کے قلب مطہر پر وہ ساری باتیں روشن فرمائی گئیں جو اُس زمانے سے تعلق رکھتی تھیں یا آئندہ زمانوں سے تعلق رکھتی تھیں اور سارے مصائب کے حل بھی کھول کھول کر بیان فرما دیئے گئے۔پھر بھی ان کی محرومی دیکھیں کہ ایک مکر سے دوڑ کر دوسرے ملکر میں پناہ لیتے ہیں۔چھوٹے بتوں سے بھاگ کر جھوٹے بتوں کی پناہ میں آتے ہیں۔یہ سوچتے نہیں اور سمجھتے نہیں کہ صرف ایک پناہ ہے اور وہ اللہ کی پناہ ہے۔اگر یہ سچائی پر قائم ہو جائیں، اگر یہ خدا کی عبادت سچے دل سے کریں اور مکر کے جواب میں اعلیٰ تدبیر سے کام لیں لیکن جھوٹی تدبیر سے کام نہ لیں بلکہ اللہ کی پناہ مانگیں تو وہی ایک پناہ گاہ ہے جو دنیا کے ہر مکر سے ان کو بچا سکتی ہے مگر بدنصیبی ہے کہ لَا يَشْعُرُونَ سمجھتے نہیں کہ کیا ہو رہا ہے، دیکھتے نہیں کہ کیا ہورہا ہے، اللہ ہی ہے جو