خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 579
خطبات طاہر جلدا 579 خطبه جمعه ۲۱ را گست ۱۹۹۲ء چنانچہ میں نے اس کی دو مثالیں دیں، یہاں دیندار یا غیر دیندار کا فرق نہیں ہے۔ وہ قو میں جو سچی ہیں اُن کے رزق میں ضرور برکت پڑتی ہے۔ چنانچہ مشرق بعید کی قوموں کی مثال آپ کے سامنے رکھی، جاپان کی مثال سامنے رکھی کہ ان کی بھاری اکثریت خدا کو بھی نہیں مانتی لیکن سچ بولتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے جہاں جہاں جن قوموں میں سچ بولا جا رہا ہے وہاں رزق میں بہت برکت ہے۔ ہمارے تیسری دنیا کے ممالک کو بھی اس سے نصیحت پکڑنی چاہئے ۔ اس خطبہ کے بعد یہ حدیث میرے سامنے آئی جس میں یہ مضمون بیان ہوا ہے یہ حضرت ابو ہریرہ صلى الله کی روایت ہے حضرت اف رت اقدس محمد ﷺ نے فرمایا کہ والدین سے نیک سلوک عمر کو بڑھاتا ہے، جھوٹ رزق کو کم کرتا ہے اور دعا قضا و قدر کو بدل دیتی ہے۔ (الترغيب والترهيب للمنذری جلد دوم ۹۲ مطبوعہ مصر ) رض ان تین باتوں میں انسانی زندگی کے سارے مسائل حل ہو گئے انسان اپنی عمر اور صحت کے لئے کتنی کوشش کرتا ہے اس کے لئے یہ نکتہ بیان فرمایا کہ والدین سے نیک سلوک عمر کو بڑھتا ہے ہمارے ہاں بہت سے والدین جو بچوں کی شکایت اگر زبان پر نہیں لاتے تو دل میں ضرور رکھتے ہیں اور بڑے محروم ہیں وہ بچے جو ماں باپ کی خدمت کی عمر کو پہنچتے ہوں یا جب خدمت کی توفیق ملے ، ماں باپ زندہ ہوں اور پھر ان کی خدمت نہ کر سکیں تو یہ نصیحت بھی ضمنا آپ کے سامنے ہے کہ اگر آپ اپنی عمر اور صحت اور اپنے بچوں کی عمر اور صحت کے خواہاں ہوں تو اپنے ماں باپ کی جس حد توفیق ہو خدمت کریں۔ جھوٹ رزق کو کم کرتا ہے بڑھاتا نہیں ہے۔ یہ بات بہر حال سچی ہے اس لئے جھوٹ کے ذریعہ کمانے والوں کے لئے یہ انذار ہے۔ یہ وعید ہے وہ سمجھتے ہیں کہ ان کا رزق بڑھ رہا ہے لیکن بالآخر نہ انفرادی طور پر جھوٹ سے کمائے ہوئے رزق میں برکت رہتی ہے، نہ قومی طور پر برکت رہتی ہے اور پھر دعا قضاء و قدر کو بدل دیتی ہے یہ عجیب نکتہ ہے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ بات بیان فرمائی ہے کہ غیر ممکن کو یہ ممکن میں بدل دیتی ہے اے مرے فلسفیو! زور دعا دیکھو تو ( کلام محمود صفحہ :۱۰۵) قضاء وقدر کے خلاف انسان کی کوئی تدبیر کام نہیں کر سکتی اسی کو غیر ممکن کہا جاتا ہے۔ جب قضاء فیصلہ دیتی ہے تو اس کو ٹالنا ناممکن ہو جاتا ہے مگر حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے حضرت اقدس