خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 580
خطبات طاہر جلدا 580 خطبه جمعه ۲۱ / اگست ۱۹۹۲ء محمد مصطفی ﷺ ہی کے مدرسہ میں تعلیم پائی آپ ہی کی حکمت کی باتیں آگے پہنچائیں چنانچہ یہ بات بھی آنحضرت ﷺ ہی کی بیان فرمودہ نکتہ ہے کہ قضاء وقد ر کو دعا بدل سکتی ہے۔پس جس شخص کو قضاء قدر پر کمندیں ڈالنے کا اختیار حاصل ہو جائے اس کو اس بات سے بڑھ کر کیا چاہئے ، یہ کمندیں دعا کی کمندیں ہیں جو عرش الہی تک پہنچتی ہیں اور آسمان کے کنگروں پر پیوستہ ہو کر خدا تعالیٰ کی تقدیر کو جنبش دیتی ہیں اور جب آسمان پر تقدیر جنبش میں آتی ہے تو زمین کی تقدیریں اس کے تابع کام کرتی ہیں ان کی مجال نہیں کہ ان سے الگ کوئی رستہ اختیار کر سکیں۔حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ بدظنی سے بچو کیونکہ بدظنی سخت قسم کا جھوٹ ہے۔یہ بات وہ ہے جس کی بنیا دقرآن کریم میں ہے۔قرآن کریم میں جہاں واقعہ افک کا ذکر ہے اور اور بھی بعض مقامات پر اس مضمون پر روشنی پڑتی ہے کہ جو شخص ظن کی بناء پر کسی کو داغدار کرتا ہے وہ لازماً جھوٹا ہے۔خدا کے نزدیک وہ جھوٹا لکھا جاتا ہے یہ بحث ہی نہیں آتی کہ وہ واقعہ ہوا تھا ہوسکتا تھا کہ نہیں ہوسکتا تھا ظن کے ذریعہ کسی کو متہم کرنے کا حق خدا نے کسی بندے کو نہیں دیا اور دنیا کے اکثر فساد بدظنیوں کے ذریعہ ہوتے ہیں۔تو یہ بھی حضرت محمد مصطفے مے کی لطیف نظر تھی جو اس بات تک پہنچی اور یہ عقدہ ہمارے سامنے کھول دیا ور نہ قرآن کریم ہم بھی پڑھتے ہیں اور عام پڑھنے والے کو یہ خیال نہیں آتا کہ اصل مراد کیا ہے۔وہ صلى الله مراد آنحضرت ﷺ نے سبھی اور تفصیل سے یوں بیان فرمائی کہ بدظنی سے بچو کیونکہ بدظنی سخت قسم کا جھوٹ ہے اور بدظنی کی مزید قسمیں یوں بیان فرمائیں کہ ایک دوسرے کے عیب کی ٹوہ میں نہ رہو۔اپنے بھائی کے خلاف تجسس نہ کرو۔(مسلم کتاب البر والصلۃ حدیث نمبر ۴۲۵۰) اب یہ عجیب لطیف کلام ہے کہ بظاہر بدظنی اور تجسس دوالگ الگ چیزیں ہیں لیکن حضرت اقدس محمدمصطفی ﷺ کی عارفانہ نظر اس بات کو پاگئی کہ اگر پہلے بد ظنی نہ ہوتو تجسس کا بچہ پیدا ہی نہیں ہو سکتا۔تجسس اور دوسرے کے عیب کی تلاش کرنا یہ ایک ایسا اقدام ہے جس سے پہلے بدظنی ضروری ہے۔جس پر آپ نیک ظنی کرتے ہیں کبھی اس کا بھی تجسس کیا ہے، کبھی اس کے عیب بھی تلاش کئے ہیں اُس کے برعکس بات ہوتی ہے، جس کے ساتھ محبت ہو، جس کے ساتھ پیار ہو ، جس پہ انسان حسن ظن کرتا ہو اس کی برائی دکھائی بھی دے تو انسان آنکھیں بند کرتا ہے، منہ پھیر لیتا ہے کسی بات کا احتمال