خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 578
خطبات طاہر جلد ۱۱ 578 خطبه جمعه ۲۱ را گست ۱۹۹۲ء عبادت کا اکثر حصہ بغیر مغز کے رہ جاتا ہے تو جب موحدین کا یہ حال ہے تو جو موحد نہیں ہیں، جو سراسر شرک کی عبادت کرتے ہیں ان کا اندازہ کریں کہ اُن کا کیا حال ہوگا۔اس لئے ضروری ہے کہ جماعت احمد یہ اپنے حال سے پہلے خود واقف ہو۔ہم میں سے ہر فردا اپنے نفس کا تجزیہ کرے، اپنے خیالات اپنی نیتوں کا تجزیہ کرے اور اپنا مقام معلوم کرے کہ وہ کہاں کھڑا ہے۔یہ پتا کرے کہ اس کی کتنی عبادت اللہ کے لئے خالص ہے اور کتنی غیر اللہ کے لئے ہے۔اس کی زندگی کا کتنا حصہ خدا کے ذکر میں گزرتا ہے اور کتنا وقت غیر کی باتیں جیتے ہوئے کشتا ہے۔یہ ظاہری جینا مراد نہیں۔مراد یہ ہے کہ خیالات اگر غیر سے چمٹے ہوئے ہوں تو نام خدا کا بھی لیا جار ہا ہو تو دراصل وہ غیر کا ہی لیا جاتا ہے۔ہم نے ایسے تسبیح کرنے والے دیکھے ہیں جو انگلیوں سے خدا کی تسبیح کر رہے ہوتے ہیں اور زبان سے گندی گالیاں دے رہے ہوتے ہیں ، جھگڑا کر رہے ہوتے ہیں اور نفسانی خیالات میں مبتلا ہوتے ہیں۔تو اللہ تعالیٰ ظاہر کو نہیں دیکھتا وہ حقیقت پر نظر رکھتا ہے۔یہ معلوم کرنے کے لئے کہ خدا کی کس حقیقت پر نظر ہے۔آپ کی اپنی نظر اسی حقیقت پر ہونی چاہئے ورنہ آپ کی نگاہ اور خدا کی نگاہ کے فیصلے مختلف ہوں گے اس لئے اس تفرقہ کو دور کریں۔جب تک آپ کی نظر سچی نہیں ہوتی آپ اپنی ذات کا خدا کی نظر سے مطالعہ کر ہی نہیں سکتے۔آپ کو علم ہو ہی نہیں سکتا کہ اللہ کے نزدیک آپ کا کیا مقام ہے۔پس اسی وجہ سے میں نے تفصیل میں جا کر بتا نا شروع کیا کہ سب سے بڑا بت جھوٹ کا بت ہے جو عبادت کے خالص ہونے کی راہ میں حائل ہے اس کو تو ڑو اور اس کو تو ڑو تو اکثر بت ٹوٹ جائیں گے لیکن اور بھی ہیں جن کا ذکر قرآن کریم میں ملتا ہے، جن کی تفاصیل احادیث میں بیان ہوتی ہیں۔ان میں سے ایک ایک موضوع کو لے کر انشاء اللہ تعالیٰ وقتا فوقتا میں آپ کے سامنے کھول کر یہ باتیں پیش کروں گا۔اس وقت جھوٹ کے مضمون کے سلسلہ میں یہ تیسرا خطبہ ہے۔آپ کو یاد ہوگا کہ پچھلے خطبہ میں میں نے یہ بیان کیا تھا کہ وہ قومیں جو جھوٹی ہیں ان کی اقتصادیات میں برکت نہیں ہے اور یہ صرف فرد کا معاملہ نہیں جھوٹ قوموں کے رزق کو چھین لیتا ہے اور بظاہر انسان جھوٹ کو اپنا رب بنا رہا ہوتا ہے لیکن حقیقت میں یہ ایسا ظالم رب ہے، ایسا دھو کے باز رب ہے کہ ایک ہاتھ سے کچھ دیتا ہے تو دوسرے ہاتھ سے اُس سے بہت زیادہ واپس لے جاتا ہے۔