خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 577
خطبات طاہر جلدا 577 خطبه جمعه ۲۱ / اگست ۱۹۹۲ء دواور پھر خدا پر ہی تو کل کرو۔اسی کے ہو جاؤ اور پھر دیکھو کہ تمہارے سارے کام اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے خود بنائے گا، تمہارے سارے بوجھ اُٹھائے گا تمہاری ساری مشکلات دور فرمائے گا تم خدا کے وہ نمائندہ بن جاؤ گے جس کا غالب آنا مقدر ہے اور دنیا کی کوئی طاقت اس تقدیر کو نہیں ٹال نہیں سکے گی۔یہ وہ مضمون ہے جس کی تفصیلات میں جا کر میں پچھلے دو خطبوں سے یہ بیان کر رہا ہوں کہ سب سے بڑا بت جو تبتل کی راہ میں حائل ہوتا ہے وہ جھوٹ کا بت ہے دنیا میں سب سے زیادہ عبادت جھوٹ کی ہو رہی ہے۔وہ قومیں جو خدا کی قو میں کہلاتی ہیں وہ اہل مذاہب جو خدا پر ایمان رکھتے ہیں جن کے مذاہب کے بنیاد میں الہام پر مبنی ہیں یعنی الہام کے ذریعہ بنیادیں قائم ہوئیں ان مذاہب کے ماننے والوں کی بھاری اکثریت اتنی بڑی بھاری اکثریت کہ بعض دفعہ یوں لگتا ہے کہ چراغ لے کر بھی ڈھونڈ وتو اس اکثریت میں استثناء نہیں ملے گا، جھوٹ کی عبادت کرتی ہے، ان کا اوڑھنا بچھونا جھوٹ، ان کی اُمید میں جھوٹ سے وابستہ ہیں اور وہ خوف میں نجات جھوٹ سے حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ہر بات میں جھوٹ کی طمع ہے جو ان کا سہارا بنتی ہے۔تو اگر نام خدا کالے رہے ہوں اور سجدے بتوں کے کر رہے ہوں تو خدا ایسا نادان تو نہیں کہ ان سجدوں کو جو بتوں کو کئے جارہے ہوں قبول فرمالے گا۔اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ جب تم خدا کے سوا کسی اور نام پر جانور ذبح کرتے ہو تو وہ گوشت اور وہ قربانیاں خدا کو بہر حال نہیں پہنچتیں وہ تو دنیا کے لئے ہیں ، دنیا کے لئے ذبح ہو جاتی ہیں۔پس بعض لوگ جب خدا کو مد نظر رکھ کر بھی بظاہر خدا کے لئے اپنی عبادتیں وقف کرتے ہیں ان کی نمازوں کا اُٹھنا بیٹھنا خدا کے لئے ہوتا ہوگا اور وہ بھی بظاہر ان کا گرجوں میں جا کر Services میں شامل ہونا بھی بظاہر خدا کی خاطر ہوتا ہوگا۔ان کا دوسری عبادت گاہوں میں جا کر خدا کے سامنے سر جھکانا بھی بظاہر خدا کے لئے ہو گا لیکن مساجد سے باہر آنے کے بعد جب ساری زندگیاں غیر اللہ کے لئے وقف ہو جائیں تو اللہ تعالیٰ کی غیرت اس تھوڑی سی عبادت کو کبھی قبول نہیں کرے گا جو اس کے لئے الگ کی گئی ہو۔لیکن جب میں نے بظاہر وہ الفاظ استعمال کیا تو عمدا میں نے ایسا کیا کیونکہ وہ لوگ جو موحد ہیں۔ان کی عبادتیں بھی اکثر خدا کے لئے نہیں ہوتیں، ان کے خیالات ان کو عبادتوں میں گھیر لیتے ہیں، ان کے فکر دامنگیر ہو جاتے ہیں، کئی قسم کے جن ہیں جو ان کو چمٹ جاتے ہیں اور