خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 564
خطبات طاہر جلد ۱۱ 564 خطبه جمعه ۱۴ / اگست ۱۹۹۲ء سے تو محبت بہت ہے اس لئے اس نکتہ کو ہی کم از کم سمجھ لیں۔یہی اگر سمجھ جائیں کہ رزق سچ سے ملے گا جھوٹ سے نہیں ملے گا تو اس سے ہی ان قوموں میں عظیم انقلاب برپا ہو سکتے ہیں۔الله حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔کہ انسان کے جھوٹے ہونے کے لئے یہی علامت کافی ہے کہ وہ ہرسنی سنائی بات لوگوں میں بیان کرتا پھرے (صحیح مسلم کتاب المقدمہ حدیث نمبر ۶) اب آپ اپنی سوسائٹی کا جائزہ لے کر دیکھیں جہاں جھوٹ زیادہ ہو وہاں یہ عادت روز مرہ ہر طبقہ میں عام طور پر ملتی ہے کہ ادھر سے بات سنی اور اُدھر لے اُڑے اور دوسری طرف سے باتیں بیان کرنی شروع کر دیں۔عجیب قسم کی بیہودہ گندی عادت اس لئے ہے کہ اس کا چسکا ہے۔اس کے پس منظر میں بہت سی نفسیاتی خرابیاں ہیں۔نفسیاتی ٹیڑھا پن ہے، کجیاں ہیں۔جن کے نتیجہ میں یہ عادت پیدا ہوتی ہے۔اگر اپنے بھائی سے یعنی بھائی سے مراد یہ ہے کہ اپنے ہم وطن ، اپنے ہم شہری، اپنے تعلق دار سے دلی محبت نہ ہو تو انسان اس کی برائی کی تلاش میں رہتا ہے اور جس سے محبت ہو اس کی برائی پر پردہ ڈالتا ہے اور اس کی خوبیوں کو اچھالتا ہے۔تو جن سوسائٹیوں میں چغل خوریاں یاسنی سنائی بات کو آگے بیان کرنے کی عادت ہو وہاں دراصل اس مرض کی نشاندہی ہوتی ہے کہ اس سوسائٹی میں بغض ہے، اس سوسائٹی میں حسد ہے، اس میں محبت کا فقدان ہے، بھائی بھائی سے جلتا ہے اور اس کا دشمن ہے۔پس جب بھی برائی کی کوئی بات کان میں پڑے فوڑا آگے بیان شروع کر دیتے ہیں اور اس کے علاوہ مزاج کا جھوٹا ہونا اس عادت کو رواج دیتا ہے جس شخص کا مزاج جھوٹا ہو وہ تحقیق کی طرف مائل ہی نہیں ہوتا جس کا مزاج سچا ہو وہ تحقیق کی طرف مائل ہوتا ہے۔اگر کسی بچے کے سامنے آپ کوئی ایسی بات کریں تو وہ فورا پوچھے گا کہ بتاؤ تم نے کس سے سنی تھی وہ کون شخص ہے اس کے متعلق جائزہ لے گا کہ وہ کیسا تھا اگر وہ سچا ہو تو پھر بات کو آگے بڑھا کر مزید جستجو کرے گا۔اگر وہ جھوٹا ہوگا تو و ہیں اس بات کو ترک کر دے گا کہ جس سے تم نے روایت کی ہے وہ تو ہے ہی جھوٹا آدمی لیکن بسا اوقات تحقیق کے نتیجہ میں لوگ دوسرے کا نام بھی نہیں بتاتے۔میں نے تو جب بھی تحقیق کی ہے ہمیشہ یہی دیکھا ہے کہ لوگ کوشش کرتے ہیں کہ کسی کا نام پتا ہی نہ لگے۔ابھی پچھلے جلسہ کے دنوں میں مجھ سے کسی نے شکایت کی کہ جی ! لوگ یہ باتیں کر رہے