خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 563
خطبات طاہر جلدا 563 خطبه جمعه ۱۴ / اگست ۱۹۹۲ء کہ دیکھو جھوٹ نہیں بولنا اور جھوٹی گواہی نہیں دینی لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ وہ ممالک جو اسلامی ، اسلامی ہونے کے دعوے کرتے چلے جا رہے ہیں اور ساری دنیا میں شور ڈال رہے ہیں کہ ہم ہیں جو اسلام کی عزت اور وقار کو قائم کرنے والے ہیں، ہم ہیں جو شریعت کا احترام دنیا میں قائم کرنے والے ہیں، ہم ہیں جو اسلامی نظام کو دنیا میں دوبارہ رائج کرنے والے ہیں۔وہ یہ نہیں سوچتے کہ یہ نظام کن لوگوں پر رائج ہوگا۔اسلامی عدل کن عدالتوں میں جلوے دکھائے گا۔وہ عدالتیں جہاں ہر گواہ جھوٹا ہو۔جہاں مقدمے کی بنا جھوٹی ہو ، جہاں مقدمے کے مقاصد جھوٹ پر مبنی ہوں ، جہاں اول سے آخر تک سارا تانا بانا جھوٹ سے بنا جار ہا ہو اس کا اسلامی نظام عدل سے کیا تعلق ہے لیکن یہ دعویٰ بھی جھوٹا۔جس کو انگریزی میں کہتے ہیں He is living a lie بعض قومیں اپنی بدبختی سے جھوٹ کی زندگی بسر کر رہی ہیں اور تیسری دنیا میں ایسے ممالک تعداد میں بہت زیادہ ہیں جہاں اکثریت ایسے باشندوں پر مشتمل ہے جنہیں جھوٹ سے کوئی عار نہیں بلکہ روز مرہ کی زندگی کا حصہ بنا ہوا ہے سوائے مشرق بعید کے وہاں خدا کے فضل سے جھوٹ بہت کم ملتا ہے یعنی ہندوستان ، پاکستان اور بنگلہ دیش وغیرہ کے جو حالات ہیں وہ مختلف ہیں لیکن کوریا اور چین اور ہند چینی وغیرہ کے جزائر ہیں وہاں نسبتاً کم جھوٹ ہے اور جہاں جھوٹ کم ہے وہاں اقتصادی ترقی زیادہ ہے۔ان دو باتوں کا گہرا رشتہ ہے اور حضرت رسول کریم ﷺ کی ایک حدیث ہے کہ رزق میں برکت سچ سے ہوتی ہے۔( الترغیب والترہیب للمنذری جلد ۳، ۲۹ مطبوعہ مصر ) وہ جھوٹے ہیں کہ جو سمجھتے ہیں جھوٹ سے ہمارے رزق میں برکت پڑے گی۔رزق اصل برکت سچ سے ہوتی ہے۔مشرق بعید میں اقتصادی لحاظ سے سب سے زیادہ ترقی یافتہ ملک جاپان ہے اور سب سے زیادہ بچ جاپان میں بولا جاتا ہے۔میں نے وہاں جا کر تفصیل سے جائزہ لیا ہے وہاں جو مجالس ہوئیں اور بعض دفعہ دانشوروں سے جو خطاب ہوئے ان میں میں نے کھل کر ان کو خراج تحسین پیش کیا۔میں نے کہا بڑے بڑے ترقی یافتہ مغربی ممالک کے مقابل پر جاپان میں سچ بہت زیادہ گہرائی کے ساتھ نافذ ہے اور ان کی روزمرہ کی زندگی میں جھوٹ کا تصور ہی کوئی نہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ رزق کی سب سے زیادہ فراوانی بھی اسی ملک میں ہے۔پس جو قو میں جھوٹی ہو جائیں وہاں رزق کو برکت نہیں ملتی اور کوئی جھوٹا خدا ان کا رب نہیں بنا کرتا۔جھوٹ سے نفرت نہیں تو رزق