خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 561 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 561

خطبات طاہر جلد ۱۱ 561 خطبه جمعه ۱۴ / اگست ۱۹۹۲ء کہ بدی کے ساتھ ہی بہانے ڈھونڈ رہی ہوتی ہے کہ میں کس طرح اپنا بچاؤ کروں گی یا بدی کرنے والے کا بچاؤ ہو گا۔تو جب اس نے سوچا تو اس کو خیال آیا کہ جھوٹ کے سوا میرا بچاؤ ہو ہی نہیں ہوسکتا۔چور تھا رات کو چوری کے لئے نکلا تو خیال آیا کہ اگر میں پکڑا گیا تو کیا کہوں گا یا رستے میں کسی نے پوچھ لیا کہ کہاں جارہے ہو تو میں کیا جواب دوں گا میں تو وعدہ کر بیٹھا ہوں میں جھوٹ نہیں بولوں گا غرضیکہ یہ سوچ بڑھتی چلی گئی اور اس کی بدیوں کے دائرے سے جھوٹ کا تعلق نکلا یہاں تک کہ بالآخر اس کو ہر بدی سے تو بہ کرنی پڑی ( تفسیر کبیر رازی، سورۃ توبہ آیت ۱۱۹) اور اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ چونکہ وہ اس معاملہ میں سچا تھا کہ جھوٹ نہیں بولے گا اور پھر سچ کے نیک بچے پیدا ہونے شروع ہوئے اور خدا کے فضل سے اس کو کثرت کے ساتھ نیکیوں کی توفیق ملی۔صلى الله تو یہ وہی مضمون ہے جسے حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمایا کہ انسان سچ بولتا ہے تو اس کے نتیجہ میں نیکیاں پیدا ہوتی ہیں۔جھوٹ بولتا ہے تو اس کے نتیجہ میں بدیاں پیدا ہوتی ہیں۔فرمایا انسان سچ بولتا ہے اور سچ بولنے کی کوشش کرتا ہے۔یہ بھی بہت ہی عظیم کلام ہے۔ایک عارف باللہ کا کلام ہے جو انسانی فطرت پر گہری نظر رکھتا ہے۔صرف یہ نہیں فرمایا کہ سچ بولتا ہے۔فرمایا سچ بولنے کی کوشش کرتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو ساری زندگی سچ کے معاملہ میں جہاد کرنا پڑتا ہے جس کو ایک سطح سے دیکھا جائے اور وہ سچا نکلتا ہے اور اگر دوسری سطح سے دیکھا جائے تو وہی شخص بعض پہلو سے جھوٹا بھی نکلے گا۔آزمائشوں کی بات کیسی بڑی آزمائش ہے؟ کس نوع کی آزمائش ہے؟ اور اس کے مزاج سے اُس آزمائش کا کیا تعلق ہے؟ یہ بہت سے عوامل ہیں جو مل کر یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ کوئی انسان خدا کے نزدیک سچا ٹھہرتا ہے کہ نہیں۔پس روز مرہ کی زندگی میں سچ بولنے والے جھوٹے نکل آتے ہیں۔روز مرہ کی زندگی میں جھوٹ بولنے والے جب کوئی مطلب نہ ہو تو سچ بھی بول دیتے ہیں۔پس آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ کوشش کرتا ہے ایک ایسی کوشش جو زندگی کا حصہ بن چکی ہو آپ فرماتے ہیں ایسا شخص بعض دفعہ ایسے مرتبہ تک پہنچ جاتا ہے کہ خدا کے ہاں صدیق لکھا جاتا ہے اور فسق و فجور کے متعلق فرمایا کہ جھوٹ فستق فجور کا باعث بن جاتا ہے اور یہ آگ کی طرف لے جاتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے ہاں کذ آب لکھا جاتا ہے۔پس جو جھوٹ بولنے والا ہے اس کو میں یہ متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ وہ ایک مقام پر نہیں ٹھہرا