خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 560 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 560

خطبات طاہر جلد ۱۱ 560 خطبه جمعه ۱۴ / اگست ۱۹۹۲ء جو ہے بچپن سے لے کر بڑھاپے تک زندگی کے ہر شعبے پر حاوی ہے۔میاں بیوی کے تعلقات پر بھی حاوی ہے۔ماں باپ کے تعلقات پر بھی حاوی ہے، جہاں بھی کوئی ظلم ہو جہاں بھی کسی سے کوئی بے اعتدالی ہو، نا انصافی کا سلوک کیا جائے یا کسی کے خلاف کوئی مجرمانہ حرکت کی جائے اگر آپ ان نیوں کا تجزیہ کریں تو ہمیشہ ان سے پہلے جھوٹ ہوگا۔جھوٹ نیت کے اندر داخل ہو کر حملہ کرنے والی ایک چیز ہے۔جس طرح قرآن کریم نے شیطان کے متعلق فرمایا ہے کہ تم پر وہاں سے حملے کرتا ہے جہاں سے تمہیں دکھائی نہیں دیتا۔وہ کون سی جگہ ہے جہاں دکھائی نہیں دیتا۔بسا اوقات انسان کی نیت میں جو فساد پوشیدہ ہو وہ دکھائی نہیں دیا کرتا اور نیت کے فساد کے ساتھ ایک گناہ کا ارادہ کرنے والا انسان بسا اوقات خود اس بات سے واقف نہیں ہوتا کہ اول سے لے کر آخر تک میری نیست فساد کی تھی اور بدتھی۔یہاں تک کہ اکثر اوقات یہ نیتیں انسان سے چھپ جاتی ہیں اور وہ جو سوچیں سوچ رہا ہے اور ترکیبیں کر رہا ہے کہ میں یہ جھوٹ بولوں گا اور اس طرح بولوں گا اور یہ کروں گا یہ ساری باتیں اس کی آنکھوں کے سامنے اس کے وجود کے اندر صلى الله واقع ہو رہی ہوتی ہیں اور اس کو پتا نہیں لگتا کہ میں کیا کر رہا ہوں۔پس آنحضرت ﷺ نے جب فرمایا کہ جھوٹ بدی پیدا کرتا ہے تو واقعہ تمام جرائم میں سب سے زیادہ کردار ادا کرنے والا اگر ایک واحد گناہ چنا جائے تو وہ جھوٹ ہی ہے اور اس کا تعلق انفرادی تعلقات سے بھی ہے اور قومی تعلقات سے بھی ہے، تجارت سے بھی ہے اور سیاست سے بھی ہے۔دنیا کے ہر شعبہ پر یہ بات حاوی ہے۔پہلے جھوٹ ہے پھر بدیاں پیدا ہوتی ہیں۔آنحضرت ﷺ نے ایک موقع پر ایک شخص کو نصیحت فرمائی کہ تم جھوٹ نہ بولو واقعہ یوں ہوا صلى الله کہ اس نے آنحضور ﷺ سے یہ عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! میں بہت بد انسان ہوں مجھ میں اتنی طاقت نہیں کہ میں ساری نیکیاں اختیار کرلوں اور ساری بدیوں سے قطع تعلق کر لوں مجھے ایک حکم فرمائیں۔یہ میں عہد کرتا ہوں کہ جو نصیحت فرمائیں گے اس پر میں ضرور عمل کروں گا۔تو آنحضور ﷺ نے فرمایا اچھا اگر اتنی سی بات ہے تو صرف یہ وعدہ کر لو کہ جھوٹ نہیں بولو گے اُس نے کہا کہ ہاں یہ تو معمولی سی بات ہے میں وعدہ کرتا ہوں کہ جھوٹ نہیں بولوں گا اس کے بعد جب وہ باہر نکلا تو اُسے ایک بدی کا خیال آیا اور معا یہ خیال آیا کہ اگر میں پکڑا گیا تو کروں گا کیا ؟ کیونکہ سوچ کو از خود یہ عادت ہوتی ہے