خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 562 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 562

خطبات طاہر جلد ۱۱ 562 خطبه جمعه ۱۴ را گست ۱۹۹۲ء رہے گا۔اگر اس نے جھوٹ کے خلاف جہاد نہیں کیا تو وہ اپنے جھوٹ میں لازماً بڑھے گا۔میں نے کوئی جھوٹا نہیں دیکھا جو رخ موڑے بغیر اپنی ایک حالت پر قرار پکڑ گیا ہو جتنا جھوٹ بولتا تھا کل بھی اتنا ہی بولے۔دس دن کے بعد اتنا ہی جھوٹ بولے آئندہ سال بھی اتنا ہی جھوٹ بولے اگر وہ جھوٹ سے پر ہیز کی کوشش شروع نہیں کرتا تو لازما جھوٹ میں ترقی کرتا ہے اور وہ شخص جو سچ بولنے کی کوشش کرتا ہے وہ لازما سچ بولنے میں ترقی کرتا ہے۔پس آنحضور ﷺ کے پیغام کوغور سے سنیں اور سمجھیں آپ یہ فرمارہے ہیں کہ جھوٹ بولنے والوں کو اگر تم باز نہیں آؤ گے تو ایک وقت ایسا آئے گا کہ خدا کے نزدیک تم کذاب لکھے جاؤ گے اور اے سچ بولنے والو تم اپنی کوشش میں تھک نہ جانا اگر تم سچ بولنے کی کوشش کرتے چلے جاؤ گے تو ایسا وقت آ سکتا ہے کہ خدا کے ہاں تم صدیق لکھے جاؤ۔پس ساری جماعت کو جھوٹ سے احتراز کی کوشش کی حالت میں جان دینی چاہئے اور بیچ کی طرف قدم اٹھاتے ہوئے جان دینی چاہئے پھر جس منزل پر بھی جان نکلے وہی کامیابی کی منزل ہے اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی کماحقہ تو فیق عطا فرمائے۔ایک موقع پر آنحضور ﷺ نے فرمایا۔کیا تمہیں سب سے بڑا گناہ نہ بتاؤں حضرت ابو بکر روایت کرتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا جی حضور ! ضرور بتائیں آپ نے فرمایا۔اللہ کا شریک ٹھہرانا۔والدین کی نافرمانی کرنا یہ دو باتیں بیان فرمائیں اللہ کا شریک ٹھہرانا بہت بڑا گناہ ہے اور والدین کی نافرمانی بہت بڑا گناہ ہے۔آپ تکئے کا سہارا لئے ہوئے تھے جوش میں آکر بیٹھ گئے اور بڑے زور سے فرمایا دیکھو تیسرا بڑا گناہ جھوٹ بولنا اور جھوٹی گواہی دینا ہے۔آپ نے اس بات کو اتنی دفعہ دہرایا کہ ہم نے چاہا کاش حضور آب خاموش ہو جائیں تا کہ حضور کو بار بار دہرانے سے تکلیف نہ پہنچے۔(بخاری کتاب الادب حدیث نمبر: ۵۹۷۶) تو جھوٹ کا جب ذکر آیا تو طبیعت میں ایک غیر معمولی جوش پیدا ہو گیا اور بار بار فرمایا کہ دیکھو جھوٹ نہیں بولنا اور جھوٹی گواہی نہیں دینی۔اب ملکوں کا جائزہ لے کر دیکھیں جو بچے ملک کہلاتے ہیں ان میں بھی جھوٹ اور جھوٹی گواہیاں روز مرہ کی زندگی کا ایک دستور بنتا جارہا ہے لیکن وہ ممالک جو بدنصیبی سے جھوٹ میں ایک خاص مقام حاصل کر چکے ہیں اُن کے ہاں سب سے زیادہ جھوٹ عدالتوں میں ملتا ہے جس سے سب سے زیادہ زور کے ساتھ خصوصیت کے ساتھ آنحضرت ﷺ نے منع فرمایا اور بار بار تنبیہ فرمائی