خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 558 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 558

خطبات طاہر جلداا 558 خطبه جمعه ۱۴ راگست ۱۹۹۲ء میں دخل دے، سارے جھوٹ کے قصے ہیں۔ پس یہ مثال میں نے کھول کر دی ہے کہ وہ دنیا وہ وقت ، جس میں سب کچھ جھوٹ ہو چکا ہے۔ یہ وہی دور ہے جس کے متعلق قرآن کریم نے فرمایا: وَالْعَصْرِ إِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِي خُسْرٍ (العصر :۳۲) زمانہ گواہ ہے کہ انسان بحیثیت انسان گھاٹے میں ہے پس آپ جہاں بھی تلاش کریں دیکھیں ساری دنیا بتوں کی آماجگاہ بن چکی ہے، ہر دل میں جھوٹ کے بت نے قبضہ کیا ہوا ہے۔ مطلب کی بات ہے جب مطلب در پیش ہو تو ضرور جھوٹ سے کام لیا جاتا ہے، بہت کم ایسے شرفا ہیں بہت کم ایسے موحد ہیں جو سخت ابتلاء میں پڑ کر بھی سچائی سے کام لیتے ہیں ۔ پس اس لئے جماعت احمد یہ جب تو حید کی دعویدار ہے جماعت احمدیہ کا ادعا یہ ہے کہ ہم نے اس دنیا سے شرک کا قلع قمع کرنا ہے تو یہ باتیں مضمون نگاروں یا تقریروں سے تو نہیں ہوسکتیں۔ اس کے لئے تو عظیم انقلابی جدو جہد کی ضرورت ہوگی اور یہ انقلاب ہمارے نفوس میں برپا ہونا ہوگا یہ ایسا انقلاب نہیں ہے جو آپ کے سینوں سے اچھل پڑے جب تک کہ سینوں میں برپا نہ ہو۔ پس پہلے اپنے اعمال ، اپنے کردار، اپنے خیالات، اپنی گفتار میں ایک انقلاب برپا کریں ۔ اپنے آپ کو موحد بنائیں جھوٹ سے کلیہ ہجرت کر کے توحید کے دامن میں پناہ لیں پھر خدا تعالیٰ کے فضل سے آپ کو وہ طاقت نصیب ہو گی جس کے نتیجہ میں دنیا میں آپ ایک عظیم انقلاب بر پا کر سکیں گے اور یہ طاقت توحید کی طاقت ہے وہ ایک طاقت جس نے لازماً فتحیاب ہونا ہے وہ توحید کی طاقت ہے۔ وہ ایک طاقت جس کے لئے خدا کی غیرت کسی اور چیز کو برداشت نہیں کر سکتی وہ توحید کی طاقت ہے۔ پس جب موحد ہو کر خدا کی ذات میں گم ہوتے ہیں تو اسی کا نام تبتل الی اللہ ہے اور تبتل کے طریق میں سب سے بڑا تبتل جھوٹ سے اختیار کرنا ضروری ہے اور سب سے بڑا شرک جھوٹ ہی کا شرک ہے۔ پس اس پہلو سے میں آپ کو سمجھا رہا ہوں کہ یہ کوئی نظریاتی بحثیں نہیں ہیں حقیقت کی دنیا میں اتر کر ہمیں روز مرہ کی زندگی میں ان بتوں کی تلاش کرنی ہوگی ، ان کی نشاندہی کرنی ہوگی جو بت روز مرہ ہماری زندگی پر حاوی ہوتے ہیں ۔ ہماری باتوں، ہمارے طرز عمل پر ان کا اختیار ہے اور ہم موحد ہیں اور اس کے باوجود بیک وقت خدا کے سامنے بھی سر ٹیک رہے ہیں اور غیر اللہ کے سامنے بھی دل پیش کر رہے ہیں ۔