خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 559 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 559

خطبات طاہر جلد ۱۱ 559 خطبه جمعه ۱۴ / اگست ۱۹۹۲ء پس یہ متضاد زندگی کی کیفیت ہے یہ قابل قبول نہیں تضاد خود جھوٹ ہوتا ہے۔پس جہاں تضاد پیدا ہو جائے وہاں ساری زندگی جھوٹ بن جاتی ہے اس کا شعور پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ہر احمدی گھر میں ہر مرد، عورت، بچے، ہر ایک کے دل میں پوری قوت کے ساتھ جھوٹ کے خلاف نفرت پیدا کرنے کی ضرورت ہے اور حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے جس رنگ میں اس مضمون پر روشنی ڈالی ہے اُسے بار بار گھروں میں پیش کیا جانا ضروری ہے۔میں اب چند احادیث آپ کے سامنے رکھتا ہوں جو حضرت اقدس محمد مصطفی امیہ کی نصائح ہیں۔حضرت عبد اللہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت علیہ نے فرمایا:۔تمہیں سچ اختیار کرنا چاہئے کیونکہ سیچ نیکی کی طرف راہنمائی کرتا ہے اور نیکی جنت کو لے جاتی ہے۔انسان سچ بولتا ہے اور سچ بولنے کی کوشش کرتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ کے ہاں صدیق لکھا جاتا ہے۔تمہیں جھوٹ سے بچنا چاہئے کیونکہ جھوٹ فسق و فجور کا باعث بن جاتا ہے اور فسق و فجو رسیدھا آگ کی طرف لے جاتے ہیں۔ایک شخص جھوٹ بولتا ہے اور جھوٹ کا عادی ہو جاتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے ہاں کذاب یعنی سخت جھوٹا لکھا جاتا ہے۔(صحیح مسلم کتاب البر والصلۃ حدیث نمبر :۴۷۱۹) اس فرمان نبوی ﷺ پر ٹھہر کر غور کرنے کی ضرورت ہے۔آپ نے فرمایا سچ نیکی کی طرف راہنمائی کرتا ہے اور جھوٹ بدی کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ دنیا میں جتنے جرم ہور ہے ہیں اُن میں سے شاذ ہی کوئی جرم ایسا ہو گا جس کا تعلق جھوٹ سے نہ ہو۔شاذ سے مراد وہ جرم ہیں جو اشتعال انگیزی کے وقت بغیر سوچی سمجھی سکیم کے تابع اچانک رونما ہوتے ہیں ان میں جھوٹ بعد میں آتا ہے۔انسان بعد میں سوچتا ہے کہ میں کیسے جھوٹ بول کر اپنے عمل کی پاداش سے بچ سکوں گالیکن جرائم کی بھاری اکثریت وہ ہے جو جھوٹ کے بچوں کے طور پر رونما ہوتے ہیں۔ایک جرم کرنے والا پہلے یہ سوچتا ہے کہ اس جرم کے نتیجہ میں اگر پکڑا جاؤں اگر کوئی گواہی کسی کے ہاتھ آجائے کوئی میرا جرم کا نشان مل جائے تو میں کیا عذر تراشوں گا پہلے جھوٹ کا تانا بانا بنا جاتا ہے تو پھر اُس تانے بانے کے لباس میں انسان بظاہر دنیا کی نظر سے پوشیدہ ہو کر پھر جرم کا ارتکاب کرتا ہے اور یہ چیز