خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 540 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 540

خطبات طاہر جلدا 540 خطبہ جمعہ ۷ را گست ۱۹۹۲ء قرآن کریم میں فرماتا ہے۔اِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَيْكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا ( حم السجده: ۳۱) وہ لوگ جو خدا کو رب کہتے ہیں اور پھر استقامت اختیار کرتے ہیں پھر کسی اور رب کی طرف نہیں جھکتے یہی وہ لوگ ہیں جن پر فرشتے نازل ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم خوف نہ کرو تم غم نہ کرو تم نے ٹھیک دامن پکڑا ہے۔وہی رب ہے وہی رب اعلیٰ ہے اور وہی تمہاری ربوبیت کے سارے سامان کرے گا لیکن جب ایک انسان خدا کو چھوڑ کر جھوٹ کا دامن پکڑ لیتا ہے اور عملاً یہ کہہ رہا ہوتا ہے کہ ہمارا رب جھوٹ ہے اور اس جھوٹے خدا کے ذریعے ہمیں مشکلات سے نجات ملے گی۔اب اس کا رستہ الگ اور خدا کا رستہ الگ پھر اگر وہ مصیبتوں میں پڑتا ہے تو وہ مصیبتیں بھی ابتلاء نہیں بلکہ ہلاکت کی مصیبتیں ہیں اگر اسے رزق بھی مل جاتا ہے تو وہ ایک بداور بد بنانے والا رزق ہے۔اس کا شیطان سے تعلق ہے اللہ تعالیٰ سے تعلق نہیں۔کیوں اپنی زندگی کو تباہ کرتے ہیں ایک جگہ جھوٹا سجدہ کر دیں بعض دفعہ ساری زندگی کیلئے انسان توحید سے محروم رہ جاتا ہے۔تو جھوٹ کی عبادت کرنا بہت ہی خطر ناک شرک ہے اس سے ہر قدم پر بچنے کی ضرورت ہے اور خاص طور پر جب آزمائشوں کے دروازے سامنے کھڑے ہوں جن سے آپ چابی لگا کر بھی گزر سکتے ہیں، تو ڑ کر بھی گزر سکتے ہیں اس وقت اگر آپ تو حید کا دامن پکڑیں تو اللہ تعالیٰ آپ کو وہ چابی عطا فرمائے گا۔جس سے آپ کی مشکلات کے دروازے کھل جائیں گے اور اگر آپ جھوٹ کا دامن پکڑیں گے تو ان دروازوں کو توڑ کر جس جنت میں جانا چاہتے ہیں اس جنت کی بجائے وہی دروازہ جہنم کی طرف لے جائے گا۔اس لئے ضرورت کے وقت ایک انسان کی آزمائش ہوا کرتی ہے اور اسی کا نام استقامت ہے۔عام حالات میں سچ بولنا اس کا استقامت سے کوئی تعلق نہیں۔حقیقت یہ ہے کہ سچائی فطرت کا حصہ ہے۔سچائی کے بغیر انسان اپنی فطری تقاضے نہیں پورے کرتا۔میں نے پہلے بھی ایک دفعہ یہ مضمون سمجھایا تھا کہ سارے جانوروں کی دنیا میں سچ ہی سچ ہے۔کوئی جانور جھوٹ نہیں بولتا اور جانور کے جھوٹ نہ بولنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کی اداؤں، اس کی حرکتوں اور اس کے رد عمل سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ اس بیچارے میں کوئی جھوٹ نہیں ہے۔انسان ہے جس نے جھوٹ سیکھا ہے اور انسان ہی ہے جس کو خصوصیت سے ہدایت فرمائی گئی ہے کہ جھوٹ سے بچو۔اس لئے انسان جب جھوٹ بولتا ہے تو سوائے اس کے کہ کسی اور کو رب سمجھے اس کے جھوٹ کا کوئی مقصد نہیں