خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 539
خطبات طاہر جلد ۱۱ 539 خطبہ جمعہ ۷ /اگست ۱۹۹۲ء نہیں ہے لیکن جھوٹ کی ایک قسم ہے وہ اس سے بھی اعراض کرتا ہے اور لغو مجلس کو دیکھتا ہے تو منہ موڑ کر عزت کے ساتھ اپنا دامن بچاتے ہوئے وہاں سے نکل جاتا ہے۔تو ایک وہ جھوٹ ہے۔دوسرا جھوٹ وہ ہے جو ضرورت کے وقت بولا جاتا ہے۔اس جھوٹ میں لالچ کے نتیجے میں بھی انسان ملوث ہو جاتا ہے اور کسی خوف کے نتیجے میں بھی انسان ملوث ہو جاتا ہے اور اس مضمون کے بالکل برعکس ہے کہ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا (السجدة : ۱۷) کہ مومن وہ ہیں جن کو خوف ہو تب بھی وہ رب ہی کو پکارتے ہیں اور حرص ہو کوئی چیز پانے کی تب بھی اپنے رب ہی کو پکارتے ہیں۔یہ ایک بہت اعلیٰ پہچان ہے اور بڑی قطعی پہچان ہے کہ کوئی انسان موحد ہے کہ توحید سے ہٹا ہوا ہے۔جب حرص کا موقع پیدا ہو اگر اس کا خیال اپنے رب کی طرف جائے اور ہر ایسی چیز سے صرف نظر کر لے خواہ کیسی ہی اس کی تمنا ہو جو خدا کے علاوہ کسی اور در سے ملتی ہو۔جو خدا کو چھوڑ کر نصیب ہوتی ہو۔یہ ایک موحد کی شان ہے اور جب خوف کا وقت آئے اگر اللہ کا خیال پہلے آیا ہے اور اسی کی طرف انسان جھکا ہے تو وہ موحد ہے لیکن خوف کے وقت اگر دماغ میں یہ خیالات کروٹیں لینے لگتے ہیں کہ اس خطرے سے میں کیسے بچوں گا، کیا جھوٹا بہانہ بناؤں، کیا کیا سازشیں کروں ،کس کا دامن پکڑوں،کس سے سفارش کرواؤں یہ سارے ایک مشر کا نہ طریق ہیں جن کا توحید سے تعلق نہیں ہے۔اب اس مضمون کو بھی آپ دیکھیں تو روز مرہ کی زندگی نے انسانی معاشرے میں یہ جھوٹ بھی پوری طرح چھایا ہوا ہے۔یعنی جھوٹ کی اس قسم میں بھی بڑے، چھوٹے ، اچھے ، بُڑے سارے ملوث دکھائی دیتے ہیں۔یہاں تک کہ بعض احمدی نوجوانوں کے متعلق بھی یہ دیکھ کر سخت تکلیف پہنچتی ہے۔روزمرہ کی زندگی میں سچ بولتے ہیں اگر کہیں اپنا مطلب پیش آجائے ، چاہے Asylum لینا ہوں یا کسی خطرے سے کسی بدی سے بچنا ہو تو پہلے دماغ میں جھوٹ کی ترکیب آتی ہے کہ اچھا ہم یہ کرتے ہیں کہ پاسپورٹ بنوا لیتے ہیں اور جا کر کہیں گے کہ گم گیا تھا اور یہ کہہ دیں گے کہ ہم جرمنی سے نہیں آئے ہم تو سیدھا پاکستان سے آرہے ہیں۔اگر جرمنی سے آئیں گے تو دوسرے ملک والے کہہ دیں گے کہ اس طرح تو تم پہلے جرمنی پہنچے تھے ان کا کام ہے Asylum دیں یا نہ دیں ہمارے پاس کیا کرنے آئے ہو۔انگلستان آئے اور کسی اور جگہ پہنچے اور جاکے یہ بیان دے دیا کہ ہم تو سیدھا پاکستان سے آرہے ہیں۔یہ ساری باتیں جھوٹ ہیں اور خدا کے سوا کسی اور کو رب بنانے والی بات ہے۔پس جب اللہ تعالیٰ