خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 541 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 541

خطبات طاہر جلدا 541 خطبہ جمعہ ۷ را گست ۱۹۹۲ء ہے، کسی اور کو اپنا بچانے والا سمجھے تب جھوٹ بولتا ہے اور یہ جونیت کا فیصلہ ہے اس کو پہچانتا نہیں ہے،اس کو چالا کی سمجھتا ہے۔کہتا ہے کیا خوب رہی۔میں نے ایسی چالا کی کی کہ پتا نہیں لگنے دیا کہ کہاں سے آیا تھا لیکن یہ بھول گیا کہ اس چالا کی میں خدا کا رستہ چھوڑ گیا ہے۔عجیب بیوقوفوں والی چالا کی ہے کہ ایک ایسی منزل پالی جو بالکل عارضی اور جو بے حقیقت اور بے معنی ہے اور ایک مستقل ٹھکانے کو قربان کر دیا۔پس ہر وہ ابتلاء جس میں انسان کو سچ کی آزمائش ہو اس میں بیچ پر ثابت قدم رہنا اور اس پر قائم ہو جانا خواہ کچھ بھی ہو اس کا نام تو حید ہے اور تبتل کی ایک قسم ہے۔جب ہم کہتے ہیں کہ تبتل اختیار کرو اور اللہ کی طرف دوڑو تو مراد یہی ہے کہ ہر وہ چیز چھوڑ دو جو خدا سے دور لے جانے والی ہے۔تو مضمون قرآن کریم نے کتنا سادہ اور صاف بیان فرما دیا ہے۔اس میں کوئی بار یک در بار یک فلسفے نہیں ہیں۔وَمَنْ تَابَ وَعَمِلَ صَالِحًا جو بھی چاہتا ہے کہ تو بہ کرے، یعنی تو بہ کرتا ہے اور نیک اعمال اختیار کرتا ہے فَإِنَّهُ يَتُوبُ اِلَى اللهِ مَتَابًا پس اس کے لئے سوائے اس کے چارہ نہیں ہے کہ وہ اللہ کی طرف جھکے اور اس کی طرف تمام تر جھک جائے۔مجھے اطلاع ملی ہے کہ کچھ خرابی ہے ٹیکنیکل جس کی وجہ سے وہ تصویر تو صاف جاری ہے لیکن آواز صاف نہیں جارہی اس کا حل یہ کیا ہے کہ میں خطبہ لمبا کر دوں ، خطبہ لمبا بھی کر دوں تو پہلے 15 منٹ کہاں جائیں گے۔وہ تو بہر حال ہو چکے، مسئلہ تو حل نہیں ہوگا اور نہ ہی اس لئے خطبہ لمبا کر دوں کہ پہلے 15 منٹ آواز نہیں گئی یہ تو لغو بات ہے جو مضمون ہے وہی بیان کروں گا جتنا ب ہے ایک خطبہ میں اتنا ہی بیان کروں گا۔) تو میں بتارہا تھا کہ تبتل کے کتنے صاف پاکیزہ معنی ہیں۔قرآن کریم نے کھول کھول کر بیان فرما دیئے کہ جھوٹ نہ بولا کرو تو بہ کرنی ہے تو جھوٹ کے ساتھ گزارہ نہیں ہوسکتا اور جھوٹ کی ادنی ادنی چیزوں کو بھی ترک کر دو۔ادنی چیزیں جو ہیں جن کو لغو بیان فرمایا گیا ہے اس میں ہمیں ظاہر طور پر جو چیز دکھائی دیتی ہیں وہ گپ شپ ہے۔عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں کہ گپ مار دی جائے تو جھوٹ نہیں ہے اور لغو مجالس میں گئیں خوب چلتی ہیں۔بعض دفعہ لوگ ایک دوسرے سے بڑھ کر مقابلے کرتے ہیں گیئیں مارنے کے کیونکہ اس کے نتیجے میں وہ ہر دلعزیز بنتے ہیں اپنی طرف سے بعض دفعہ ایک واقعہ سناتے ہیں اور واقعہ میں مزا کوئی نہیں تو سمجھتے ہیں کہ مزا پیدا کرنے کے لئے