خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 538
خطبات طاہر جلد ۱۱ 538 خطبه جمعه ۷ را گست ۱۹۹۲ء غافل ہو جاتی ہے۔یہاں تک کہ بیماریاں بھی جو موذی ہو جائیں۔بیماریاں ہونے کے باوجود انسانی جسم ان سے غافل ہو جاتا ہے۔حضرت مصلح موعود قادیان کے ایک سادہ مزاج انسان کا ذکر فرمایا کرتے تھے کہ اس کو بے خیالی میں بچپن سے عادت پڑی ہوئی تھی کہ ارادہ نہیں مگر بے خیالی میں گالیاں دیتا تھا۔ایک دفعہ حضرت خلیفتہ المسیح الاول نے اسے اپنے پاس بلایا اور کہا دیکھو میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں مجھے اطلاع ملی ہے کہ تم گالیاں بہت دیتے ہو تم ویسے تو ایک نیک انسان ہو اپنی زبان تو صاف کرو۔تو اس نے بہت گالیاں دیں اس جھوٹے کو جس نے جھوٹ اس کی طرف منسوب کیا تھا۔اس نے کہا بد بخت ، بد نصیب، یہ وہ فلاں اور فلاں، بڑا جھوٹ بولتا ہے جو کہتا ہے کہ میں گالیاں دیتا ہوں۔آپ کو کسی خبیث نے جھوٹی اطلاع دی ہے۔حضرت خلیفتہ المسیح الاول نے کہا ٹھیک ہے، ٹھیک ہے تمہارا کوئی قصور نہیں تم اس چیز سے باز آؤ۔تو بعض عادتیں ایسا قبضہ کر جاتی ہیں کہ انسان کی اپنی نظر سے اوجھل ہو جاتی ہیں۔جوان عادتوں کو پالنے والا ہے، جس کے اندر جنم لے رہی ہوتی ہیں۔جھوٹ جب یہ صورت اختیار کر جائے تو یہ سب سے خوفناک بیماری ہے جس سے کسی کو نکالنا بہت مشکل ہے۔میں نے بھی اپنے روزمرہ کے تجربوں میں دیکھا ہے کئی فریق ایک دوسرے سے اختلاف کرتے ہیں ان کے جھگڑے آتے ہیں تو جس شخص کو جھوٹ کی عادت ہو تو اسے سمجھانا مشکل ہوتا ہے کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے اور بعض عادی جھوٹے اتنے ہیں کہ اگر ان کو کہا جائے کہ جھوٹ بولتے ہو تو مشتعل ہو جاتے ہیں کہتے ہیں اور جو کچھ کہو مجھے جھوٹانہ کہنا آئندہ سے کبھی ، یہ میں برداشت نہیں کر سکتا اور یہ جو جھوٹ ہے یہ ہماری زندگی کی دوسری سرشت بن چکا ہے۔اپنے ملک میں جا کے دیکھیں سیاست جھوٹی ، تجارت جھوٹی ،عدالت جھوٹی ، زندگی کا کوئی شعبہ نہیں ہے جہاں جھوٹ جاری نہ ہو۔روز مرہ کے تعلقات جھوٹے ، ایک دوسرے سے محبت کے تذکرے جھوٹے۔ہر بات بناوٹ پر جھوٹ پر مبنی ہے اور اسی وجہ سے قوم کو سمجھ نہیں آرہی کہ ہم کتنے بیمار ہو چکے ہیں۔تو قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تو بھی قبول نہیں ہو سکتی تمہاری اگر تم جھوٹ نہیں چھوڑتے اور بچی تو بہ کرنے والا تو وہ ہے جو جھوٹ کے ثانوی درجے کو بھی چھوڑ دیتا ہے اور اس کے تیسرے، چوتھے ، پانچویں درجے کو بھی چھوڑ دیتا ہے۔یہاں تک کہ لغو بات براہ راست جھوٹ