خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 537 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 537

خطبات طاہر جلد ۱۱ 537 خطبہ جمعہ ۷ را گست ۱۹۹۲ء قرآن کریم مومن کی شان یہ بیان فرماتا ہے۔وَمَنْ تَابَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَإِنَّهُ يَتُوبُ إِلَى اللهِ مَتَابًا جو شخص توبہ کرے اور نیک اعمال اختیار کرے، نیک عمل کرے فَإِنَّهُ يَتُوبُ إِلَى اللهِ مَتَابًا اور توبہ کرتے ہوئے اللہ کی طرف تیزی سے جھکتا ہے۔یہ مضمون جو تبتل کا مضمون ہے لیکن دوسرے لفظوں میں بیان ہوا ہے۔تبتل الی اللہ کا مطلب ہے اللہ کے غیر کو چھوڑو اور خدا کی طرف دوڑو اور يَتُوبُ اِلَى اللهِ مَتَابًا بالکل وہی معنی ہے صرف دوسرے الفاظ میں موقع اور محل کے مطابق اس مضمون کو بیان فرمایا گیا اور اس کی تشریح انگلی آیت میں ہے۔اللہ کی طرف تو بہ کرتے ہوئے تیزی سے جھکنا کس کو کہتے ہیں؟ وَالَّذِيْنَ لَا يَشْهَدُونَ الزُّوْرَی ان لوگوں کو نصیب ہوتا ہے جو جھوٹ کو دیکھتے بھی نہیں يَشْهَدُونَ الزُّوْرَ کا ایک مطلب ہے جھوٹی گواہی نہیں دیتے ، ایک یہ ہے کہ اس پر نگاہ تک نہیں ڈالتے۔اس کو مکر وہ سمجھتے ہیں ،اس سے دور بھاگتے ہیں۔چنانچہ اسی مضمون کی تشریح آگے ہے۔وَإِذَا مَرُّوا بِاللَّغْوِمَرُ وا كِرَامًا جھوٹ کی ادنیٰ قسموں سے بھی پر ہیز کرتے ہیں۔لغو باتیں جھوٹ کی ایک قسم ہے لیکن بالکل معمولی سی قسم ہے تو جب وہ لغویات کی مجالس کو دیکھتے ہیں تو اس میں ان کو کوئی دلچسپی نظر نہیں آتی۔مَرُّ واکر اما عزت کے ساتھ اپنا دامن بچاتے ہوئے وہاں سے گزر جاتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو سچی توبہ کرنے والے ہیں اور اللہ کی طرف دوڑتے ہیں۔پس جھوٹ سے بچنا اولیت رکھتا ہے تبتل اس کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے۔ہر دوسری چیز کو خدا کی خاطر آپ قربان کر دیں اور جھوٹ سے دامن نہ بچائیں تو بار یک اصطلاح میں آپ مشرک ہی رہیں گے اور وہ لا الہ کی پہلی منزل ہی طے نہیں ہوگی جس کے بعد الا اللہ اثبات ہوتا ہے۔اس ضمن میں جھوٹ کی بہت ہی ضرورتیں، بہت سی قسمیں ہیں ان سے متعلق مختصر میں آپ کے سامنے ایک ایک پہلو بیان کروں گا۔ایک ایسا انسان ہے جسے روزمرہ عا دتا جھوٹ کی عادت ہوتی ہے۔روزمرہ کی زندگی میں جھوٹ اس کی عادت بن جاتا ہے اور اسے خیال بھی نہیں آتا کہ میں جھوٹ بول رہا ہو۔سیچ شاذ کے طور پر اس کے منہ سے نکلتا ہے اور عام باتوں میں بیہودہ سرائی اور جھوٹ بولنا روزمرہ کی زندگی کا مشغلہ بن جاتا ہے۔یہ ایسا شخص ہے جو غفلت کی حالت میں زندگی گزارتا ہے اسے جھوٹ سے نکالنا سب سے مشکل کام ہے۔جن بری چیزوں کی عادت پڑ جائے اپنی نگاہ ان سے