خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 532 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 532

خطبات طاہر جلد ۱۱ 532 خطبہ جمعہ ۳۱ / جولائی ۱۹۹۲ء سنبھال کر رکھیں۔بچے بعض دفعہ بے قابو ہو جاتے ہیں بے وجہ شور کرتے ہیں ، دوڑتے پھرتے ہیں اور حرکتوں کے ساتھ بھی نظر کو تکلیف دیتے ہیں ،شور کے ساتھ کانوں کو تکلیف دیتے ہیں اُن کو سنبھالنا اور نظم وضبط میں رکھنا ہر آنے والے کا فرض ہے۔پھر آپ لندن کی گلیوں میں پھریں گے ، دوکانوں میں جائیں گے، وہاں حسن خلق کا مظاہرہ کریں۔بعض باتوں میں مشرقی لوگ سخت بد نام ہیں۔ان باتوں سے اجتناب کریں احمدی کے متعلق میں تصور بھی نہیں کر سکتا کہ وہ چوری کرے گا لیکن آپ کو بعض لوگ اس نظر سے دیکھ رہے ہوں گے کہ گویا آپ چوری کرنا چاہتے ہیں اور اُس کی وجہ سے آپ کی نگرانی بھی ہوگی۔آپ پوری احتیاط کریں کہ کسی شک کے مقام پر نہ پڑیں، کسی کو وہم بھی نہ آئے کہ آپ کی حرکت مشکوک ہے اُس کے نتیجے میں آپ کی نگرانی کی ضرورت ہے۔پھر وہ گفتگو میں حسن سلوک سے کام لیں۔جہاں تک چوریوں کا تعلق ہے اس ضمن میں میں یہ بات سمجھانا چاہتا ہوں کہ جب ایسے اجتماعات ہوتے ہیں جہاں خدا کے نیک بندے اکٹھے ہوں ، وہاں بعض شریر اس نیت سے بھی آ جایا کرتے ہیں کہ بھولے بھالے لوگ ہیں اس لئے موقع سے فائدہ اٹھاؤ اُن کی جیبیں کتر و، اُن کے چھوڑے ہوئے سامان چرالو کیونکہ آنے والے یہ سمجھتے ہیں کہ ایسے پاکیزہ ماحول میں ہم آئے ہیں یہاں چوری کا سوال ہی نہیں لیکن یہ بھی بھولا پن ہے، ان کی سادگی ہے۔مومن سے مومن محفوظ ہے لیکن شریر سے مومن محفوظ نہیں، اُس کو خود محفوظ ہونا پڑے گا، یہ خیال رکھنا پڑے گا۔اتنے بڑے ہنگاموں میں ضرور ایک نہ ایک شریر آدمی بھی داخل ہو جایا کرتا ہے۔ہم نے بارہا یہ دیکھا ہے کہ بعض ایسے لوگ جو نہ صرف یہ کہ جماعت سے تعلق نہیں رکھتے تھے ، اُن کو بلایا نہیں گیا تھا بلکہ باہر سے شرارت کی نیت سے آئے تھے یہ بھی کسی نہ کسی طرح ٹکٹ لے کر ہمارے اس نظام میں داخل ہو گئے۔اگر وقت پر پکڑا نہ جاتا تو بہت بڑا نقصان بھی پہنچا سکتے تھے۔تو اپنی چیزوں کی حفاظت کریں آپ بھی تو اپنے آپ سے امن میں رہنا چاہئے اس لئے آپ کی فراست کا تقاضا یہ ہے کہ اپنے مال کی پوری طرح حفاظت کریں خواہ مخواہ کسی دوسرے کو ابتلاء میں نہ ڈالیں، نہ خود ابتلاء میں پڑیں۔پچھلی دفعہ یہ شکایتیں پیدا ہوئی تھیں کہ کوئی شریر گروہ لڑکوں کا ایسا آ گیا تھا جو عورتوں میں داخل ہو گئے تھے وہاں بھی چوریاں کیں، مردوں میں بھی بعض دفعہ بڑی بڑی رقموں کا نقصان پہنچایا اس کے لئے آپ سب کو نظر