خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 533
خطبات طاہر جلد ۱۱ 533 خطبہ جمعہ ۳۱ جولائی ۱۹۹۲ء رکھنی چاہئے مومنوں کے متعلق یہ بالکل غلط تصور ہے کہ مومن بدو حال ہوتا ہے۔آنحضور ﷺ یہ کہتے ہیں کہ مومن بدو ہوتا ہے وہ مومن پتا نہیں کہ کون سا بدو ہوتا ہے۔جو مومن ہم نے حضرت محمد مصطفیٰ کی زبان سے سنا ہوا ہے۔وہ تو یہ ہے کہ آپ فرماتے ہیں مومن کی فراست سے ڈرو وہ خدا کے نور سے دیکھتا ہے ( ترمذی کتاب التفسیر حدیث نمبر :۳۰۵۲) وہ بدو نہیں ہوا کرتا وہ دلوں کے حال بھی پڑھ لیتا ہے۔چنانچہ حضرت اقدس محمد مصطفی امی یہ مومن کی فراست بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں وہ ان کی پیشانیوں سے ان کے دلوں کے حال جان لیتا ہے۔جو واقعہ میں نے حضرت ابو ہریرہ کا سنایا تھا وہ ایک واقعہ نہیں ایسے بے شمار واقعات حضرت محمد مصطفی ﷺ کی زندگی میں گزرے ہیں کہ چہرہ دیکھتے تھے اور پہچان جاتے تھے۔بات سنتے تھے اور پہچان لیتے تھے۔پس جس آقا کے آپ غلام ہیں اُس سے فراست سیکھئے۔آپ سے تو چوری کی توقع نہیں لیکن چوروں کو آپ سے بہت توقعات ہیں، اُن توقعات کو جھوٹا کر دیں، اُن کو رد کر دیں، نامراد بنا دیں، اپنے مال کی بھی حفاظت کریں، اپنے بھائی کے مال کی بھی حفاظت کریں غرضیکہ جو دن یہاں گزریں گے بہت ہی پاکیزہ ماحول میں گزریں۔نمازوں کا خیال رکھیں قرآن کریم نے توحید کے عقیدے کے بعد سب سے زیادہ جس بات پر زور دیا ہے وہ عبادت کا قیام ہے۔پس آپ پر فرض ہے کہ جتنی دیر یہاں ٹھہریں عبادت کو اولیت دیں۔بعض دفعہ ایسی شکایتیں ملتی ہیں کہ بعض نئے احمدی مثلاً مجھے بتاتے ہیں کہ ہم اُٹھے نماز کے لئے گئے ، تہجد پہ گئے تو خیال آیا کہ نوجوان سوئے ہوئے ہیں، نماز پہ آجائیں گے لیکن جب واپس آ کے دیکھا تو نماز کے بعد بھی ویسے ہی سوئے ہوئے تھے۔یہ جو چند دن ہیں غفلت کی حالت میں بسر نہیں ہونے چاہئیں۔میں جانتا ہوں کہ مسافرت میں ایسے حالات ہوتے ہیں کہ انسان تھک جایا کرتا ہے، بعض دفعہ نیند غلبہ کر لیتی ہے لیکن یہ تو استثنی ہیں۔روزمرہ کی باتیں تو نہیں روزمرہ کی زندگی میں آپ کو نماز کا نگران اور محافظ رہنا چاہئے اور اس کردار کا یہاں مظاہرہ ہونا چاہئے ،مظاہرے کی خاطر نہیں بلکہ طبعی حالت کے طور پر وہ آپ کے ساتھ ہمیشہ کے لئے آپ کی زندگی کا جز بن چکی ہو۔نمازوں کو اولیت دیں جب اذان کی آواز آپ کے کانوں میں پہنچے تو جلد از جلد دوسرے کاموں کو چھوڑ کر خدا کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے مسجد کی طرف دوڑیں۔صبح بھی اٹھیں تو محبت اور پیار کے ساتھ اپنے ساتھیوں کو اٹھا ئیں۔آنحضرت ﷺ کا دستور یہ تھا کہ جب آپ کے اہل خانہ میں سے کوئی نیند سے