خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 531 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 531

خطبات طاہر جلد ۱۱ 531 خطبہ جمعہ ۳۱ / جولائی ۱۹۹۲ء ساتھیوں کا بھی خیال رکھنا ہو گا۔پھر نا واجب شور جو بعض دفعہ عشاء کی نماز کے بعد جب نمازی فارغ ہوتے ہیں تو باہر باتیں کرتے ہیں اُس کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے۔آنحضور ﷺ نے اس کی بھی پیش بندی فرما دی ہے۔کوئی ایک بار یک سا بھی حصہ اخلاق کا ایسا نہیں ہے جس کے متعلق آنحضور ﷺ کی تعلیم نہ ملتی ہو۔آپ نے فرمایا نماز عشاء کے بعد اپنے گھروں کو لوٹا کرو ا اور ذکر الہی کیا کرو اور پھر مجلس سے اجتناب کیا کرو لیکن اُس کے بعد مجلسیں لگانا جو عربوں کا خصوصیت سے دستور تھا اس کو آپ نے سخت نا پسند فرمایا۔نصیحت فرمائی کہ ایسی مجلسیں خدا کو پسند نہیں ہیں۔یہ تو میں نہیں کہتا کہ گھروں میں جب بھی آپ بیٹھتے ہیں تو جو مجلس لگاتے ہیں وہ خدا کو نا پسند ہے۔جن مجالس کا آنحضور ﷺ ذکر فرماتے تھے وہ مجالس اور رنگ کی مجالس ہوا کرتی تھیں۔وہاں اپنے خاندان کی بُرائیاں بیان ہوتی تھیں اور فضول تکبر کی باتیں ہوتی تھیں اور شرا ہیں چلتی تھیں اسی قسم کی بدعات ہوتی تھیں، جوئے کھیلے جاتے تھے تو اُن سے کلیڈ پر ہیز ویسے ہی ہر احمدی پر لازم ہے لیکن آپ نے نماز کے بعد اگر کوئی مجلس لگانی ہے جس میں اچھی باتیں بھی ہوسکتی ہیں، پاک باتیں بھی ہو سکتی ہیں۔دیر سے آئے ہیں دیر کے بعد ملیں گے دن کو وقت نہیں ملتا۔رات کو چند منٹ یا ایک دو گھنٹے بیٹھ کر تبادلہ خیالات کرنا اُس طرح منع نہیں ہے جس طرح میں نے بیان کیا ہے۔اُس زمانے کی مجالس گناہ بن جایا کرتی تھیں۔مگر سڑکوں پر آپ کو یہ حق نہیں ہے، مسجد کے صحن میں آپ کو حق نہیں ہے۔یہ حق تو کسی طرح نہیں ہے کہ آپ کے گھر کا شور آپ کے ہمسائے کی نیند خراب کرے کجا یہ کہ مسجد سے شور اس طرح بلند ہو کہ ہمسائے تو بہ تو بہ کرنے لگیں اور وہ ہمیں طعنے بھیجیں کہ آپ کی مسجد کیسی ہے جس کے نتیجے میں ہمارے بچے آرام نہیں کر سکتے ہمیں سکون میسر نہیں ہوتا، بے وقت کا شور ہے تو اس بات کی احتیاط کریں۔یہاں سے جب ہم فارغ ہوں گے تو بہت سی نمازیں ہیں جو انشاء اللہ تعالیٰ مسجد لندن میں ادا کی جائیں گی۔وہاں آپ میں سے جو توفیق پائیں گے آنے کی یا درکھیں کہ وہاں آپ کو ہرگز اونچی آواز میں گفتگو کی اجازت نہیں ہے، خدا نے اجازت نہیں دی اور اس کے نتیجے میں اگر ہمسائے کو تکلیف پہنچے گی تو آپ اس کے ذمہ دار ہیں اور خدا کے سامنے جواب دہ ہوں گے۔اپنے بچوں کو